لاک ڈاؤن کے 15 روز، سندھ حکومت کی کارکردگی سامنے آگئی

تجزیہ: کاشف رفیق

لاک ڈاؤن کے 15 روز۔۔ سندھ حکومت کی پرفارمنس کھل کر سامنے آگئی۔۔

سندھ میں لاک ڈاؤن کو 15 روز ہوچکے ہیں۔میڈیا پر مراد علی شاہ کی کرونا وائرس کے اقدامات کی تعریفیں ہورہی ہیں لیکن سندھ حکومت عوام میں راشن تقسیم کرپائی اور نہ ہی کوئی بڑا ریلیف دے پائی۔۔ 44 لاکھ روالے حیدرآباد کیلئے حکومت سندھ نے صرف 10 ہزار راشن بیگز کا بندوبست کیا۔ کچھ روز قبل سعید غنی نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ہم نے راشن کی تقسیم کا ابھی اعلان نہیں کیا حالانکہ سندھ حکومت کو یہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی انتطام کرنا چاہئے تھا۔

دوسری طرف کراچی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور فاقوں پر مجبور ہوگئے اور راشن کیلئے دربدر بھٹکنے لگے۔ کراچی میں اس وقت زیادہ تر ویلفئیر ادارے عوام کو ریلیف دینے کیلئے متحرک ہیں جہاں لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں ہیں ۔ جہاں بھی راشن کی تقسیم کا اعلان ہو، بھوک سے بلکتی عوام اس طرف دوڑتی دکھائی دیتی ہے۔

کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کی بات کی جائے تو سندھ حکومت یہاں بھی سست روی کا شکار ہوگئی ہے جبکہ پنجاب حکومت سندھ حکومت سے کئی گنا زیادہ ٹیسٹ کرچکی ہے۔

سندھ حکومت نے نمازجمعہ کی پابندی کی خلاف ورزی پر جن اکابرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھیں وہ سب واپس لے لی ہیں، پچھلے جمعہ پھر سندھ میں بدنظمی دیکھنے میں آئی جب نماز جمعہ سے پولیس نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تو لوگوں نے پولیس پر حملہ کردیا

کرونا وائرس: سندھ حکومت کی ہیلتھ سیکٹر کے شعبے میں کارکردگی کھل کر سامنے آگئی۔

ہیلتھ سیکٹرز میں بھی سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ سندھ کی چار کروڑ80 لاکھ آبادی کیلئے صرف 179 ونٹی لیٹرز ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ سندھ کے 16 اضلاع میں ایک بھی ونٹی لیٹر نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اگر خدانخواستہ وہاں سے کرونا کے کیسز سامنے آتے ہیں تو سندھ حکومت کیلئے گھمبیر صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

سندھ میں آبادی کے تناسب سے 3 لاکھ لوگوں کیلئے صرف ایک ونٹی لیٹر ہے۔ ایک ونٹی لیٹر کی قیمت 7 لاکھ سے 10 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔

دوسری جانب عباسی شہید اسپتال کے ڈاکٹرز حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی پر شاپنگ بیگ استعمال کرنے پر مجبور۔ڈاکٹرز کی زندگیاں خطرے میں کئی آیسولیشن میں جا چکے ہیں۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی پلاسٹک کی تھیلیاں پہنے ہوئے تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔

پیرا میڈیکل اسٹاف اور عملے نے متعدد بار انتظامیہ سے شکایت کی کہ انہیں کٹس فراہم کی جائیں تاہم انتظامیہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور کے ایم سی کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو کورونا وائرس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے 9 دن ہسپتال بنالیا، 18 ہزار سے زائد کرونا ٹیسٹ کرلئے جو سندھ حکومت سے دوگنا ہیں، ریلیف پیکیجز کا اعلان کردیا، ڈیڑھ کروڑ روپے زکوٰۃ مستحقین کو ٹرانسفر کردئیے۔ پراپرٹی اور پروفیشنل ٹیکس 3 ماہ کیلئے معاف کردیا۔ جن علاقوں میں کرونا وائرس کے زیادہ کیسز نظر آئے، انہیں سیل کردیا گیا تاکہ کرونا باقی علاقوں تک نہ پھیلے۔ ان سب کے باوجود میڈیا کی نظر میں مراد علی شاہ بہترین وزیراعلیٰ اور عثمان بزدار بدترین وزیراعلیٰ ہے۔

    (2 posts)

    Check out the difference between sindh and punjab and rest of the provinces first to lockdown although many people sent from balochistan quarantine yet sindh govt carried out test and found positive cases schools and collages were closed way before any other province massive testing had many cases everyday where punjab had none for weeks and we were surprised to see why no cases in punjub as people are comming from iran are either going to sindh or punjab later punjub showed many positive cases where as sindh contained it successfully. This is a paid article follow international news WHO appreciated sindh in this pendamic.

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More