کورونا وائرس:امید کی کرن نظر آنے لگی

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس وبا ء سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں جس کے بعد اس وائرس کے سامنے پوری دنیا بالکل بے بس نظر آنے لگی ہے تاہم پہلے دن سے ہی ڈاکٹرز اور سائنسدان اس مرض کی دوا ڈھونڈنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور اب لگتا ہے کہ امید کی ایک کرن نظر آنے لگی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی کورونا ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمان کا ایک ویڈیو بیان سامنےآیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں میں کوروناوائرس کے علاج سے متعلق ریسرچ جاری ہے، اور اب لگتا ہے کہ ہم اس وباء پر قابو پانے پر ضرور کامیاب ہوجائیں گے،

فرانس میں ایک تحقیقاتی ٹیم نے ایک ریسرچ شائع کی ہےجس میں ایک ہزار سے زائدمریضوں پر کلینیکل ٹرائل کیا گیا ٹرائل کے دوران مریضوں کو ہائیڈروکلورو کوئین اور ایزتھرومائسن کا مجموعہ استعمال کرایا گیا، جس کے 93 فیصدمثبت نتائج سامنے آئے، اور اموات کی شرح صرف صفر اعشاریہ 5 فیصد رہی۔

ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وائرس سے بچے بوڑھے، جوان سب متاثر ہوئے ہیں لیکن زیادہ تر اس کا شکار 60سال سے زیادہ عمر کے افراد ہوئے ہیں، متاثرہ افراد اگر کم عمر کے ہوں تو اموات کی شرح کم ہوتی ہے لیکن اگر وائرس کا شکار شخص 60 سال سے زیادہ کا ہے اور اسے کوئی اور بیماری بھی لاحق ہے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے،

پاکستان میں کلینیکل ٹرائلز کے وسائل سے متعلق ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ جی ہاں پاکستان میں مریضوں کی تعداد اب اتنی ہوگئی ہے کہ ہر 1500 مریضوں پر کلینیکل ٹرائل کیا جاسکتا ہے،تاہم ادویات کی مناسب مقدار میں دستیابی کویقینی بنانا پڑے گا جس کیلئے میں نے گیٹس فارما کےہیڈ سے بات کی تھی اور ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اس دوا کی مناسب مقدار کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔

ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ جلد دنیا کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی، کچھ جڑی بوٹیا ں جو پاکستان میں پائی جاتی ہیں جن سے بنائی جانے والی ادویات کے کورونا وائرس کے خلاف مثبت نتائج مرتب ہوسکتے ہیں

تاہم پاکستان میں ان ادویات کی تیاری میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی کیونکہ حکومت اس معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کررہی،

جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں پایا جانے والا کورونا وائرس ووہان کے وائرس سے تھوڑا مختلف ہے اس پر مزید ریسرچ کیلئے ہم ایک سو مختلف مریضوں کے وائرس کے نمونے لیں گے اور پتا چلائیں گے کہ اس وائرس کی کتنی اقسام ہیں

جو ادویات بنائی جاتی ہیں وہ زیادہ تر ایک وائرس کی تمام ساختوں کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں اس لیے کورونا کیلئے بنائی جانے والی ادویات بھی اس کی ہر قسم کیلئے مددگار ثابت ہوں گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >