پاکستان میں کرونا پر قابو پانے کیلئے کیا ہرڈامیونٹی کی تکنیک استعمال ہورہی ہے؟

کیا پاکستان ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی مدافعت کی طرف بڑھ رہا ہے؟ بی بی سی کی رپورٹ

بی بی سی کے مطابق ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی مدافعت سے مراد آبادی کے ایک بڑے حصے کو متعدی بیماری کی ویکسین یا اسی بیماری میں مبتلا کر کے ان کے جسم میں اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنا ہے تاکہ وبا کے پهیلاؤ کا سلسلہ روکا جا سکے

کسی وبا کے خلاف اجتماعی مدافعت حاصل کرنے کا عمل دو طرح ہو سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ کسی آبادی کا بڑا حصہ اس بیماری یا انفیکشن کا شکار ہو جائے۔ یہ حصہ عموماً صحت مند افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے یہ امکان رہتا ہے کہ باقی تیس فیصد غیر صحتمند یا کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد تک یہ وائرس نہیں پہنچ پائے گا بلکہ اس سے پہلے ہی وائرس کے پهیلاؤ کی چین ٹوٹ جائے گی۔ یہ ایک قدرتی عمل بهی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے اس تصور کو رد کردیا اور کہا کہ انسان ریوڑ نہیں ہے، میرے خیال میں ہمیں اس وقت ایسے الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط ہونا چاہیے جب ہم انسانوں میں قدرتی انفیکشنز کی بات کرتے ہیں۔ کیونکہ ہرڈ امیونٹی ایک ایسی وحشیانہ مساوات کو جنم دے سکتے ہیں جس میں انسان، زندگی اور تکلیف مرکزِ نگاہ نہیں رہتے۔

بی بی سی کے مطابق پاکستان میں بھی گذشتہ چند دنوں سے اجتماعی مدافعت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور اس کا تعلق لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار خاتمے کے فیصلے سے بهی جوڑا جا رہا ہے۔

بی بی سی نے انکشاف کیا کہ مارچ کے آغاز میں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں ملک کے حساس اداروں نے کرونا وائرس سے ہونے والے ممکنہ جانی اور معاشی نقصان سے متعلق ایک جامع رپورٹ پیش کی تهی۔حکومتی ذرائع کے مطابق یہی وہ پہلا موقع تها جب اجتماعی مدافعت کا ذکر سننے کو ملا اور یہ تذکرہ ہوا کہ ویکسین دریافت ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں ہرڈ امیونٹی کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا تھا کہ میرے خیال میں اس وبا کا عملی طور پر خاتمہ ویکسین کی صورت میں ہی ممکن ہے یا اس صورت میں کہ ستر فیصد آبادی میں اس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو جائے۔

اجتماعی مدافعت کا دوسرا اور آزمودہ عمل ویکسینیشن ہے۔ یعنی کسی بهی علاقے میں موجودہ زیادہ تر افراد کو ویکسین دی جائے تاکہ ان میں کسی مخصوص بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جائے جیسا کہ دنیا میں پولیو، چیچک اور خسرے جیسی بیماریوں کے لیے کیا گیا۔

اس پر ڈاکٹر فہیم یونس کا کہنا ہے کہ فرض کریں کہ سو افراد کی آبادی میں پہلے شخص میں وائرس آنے کے بعد باقی 99 افراد اس کا اگلا نشانہ ہوں گے۔مگر حساب یہ کہتا ہے ستر افراد کے متاثر ہونے کے بعد تیس افراد کو وہ وائرس منتقل ہونا مشکل ہو گا۔ اس کی وجہ خود وائرس کا اپنا لائف سائیکل ہے جبکہ پهیلاؤ کی چین اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب وائرس کو وہ تیس افراد ڈهونڈنے پڑیں جو ابهی تک متاثر نہیں ہوئے۔ جبکہ ان سو افراد میں سے کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کا امکان بهی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر فہیم کے مطابق پاکستان کی آبادی بهی 22 کروڑ سے زائد ہے۔ پاکستان کی آبادی کے ایک فیصد کا مطلب ہے 22 لاکھ افراد۔ کیا پاکستان 22 لاکھ افراد کی ہلاکت کا متحمل ہو سکتاہے، کیا پاکستان کے اسپتالوں میں اتنی استعداد موجود ہے، جہاں پہلے ہی کئی ہزار افراد کے علاج معالجے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے؟

ڈاکٹر فہیم کہتے ہیں کہ پولیو کو ویکسین سے ختم کیا گیا۔انہوں نے ہرڈ ایمونٹی کا نقصان گنواتے ہوئے کہا کہ اگر کرونا کو ہرڈ امیونٹی کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جاتی تو دنیا کی پچاس فیصد سے زائد آبادی میں بچے معذور پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اس وقت دنیا میں صرف سویڈن ایسا ملک ہے جہاں اعلانیہ ہرڈ امیونٹی کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ سویڈن میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے، ریسٹورنٹ اور دیگر پبلک مقامات اور کاروبار کهلے ہیں لیکن اس وقت سویڈن میں کرونا وائرس سے شرح اموات اس کے ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہے جہاں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More