کورونا وائرس:وبائی صورتحال میں11لاکھ بچے مر سکتے ہیں،جدید تحقیق

بالتی مور کے جان ہاپکنز بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ میں کی گئی تحقیق کے مطابق آئندہ 6ماہ میں کورونا کے باعث پیدا صورتحال کے اثرات کے باعث 5 سال سے کمر عمر والے11 لاکھ بچے جان سے جا سکتے ہیں جوکہ 6 ماہ میں دنیا میں پیدا ہونے والے بچوں کا 45 فیصد بنتا ہے، جبکہ محدود طبی اور صحت کی دوسری سہولیات کے باعث حاملہ خواتین کی بڑی تعداد بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ تمام تر توجہ کورونا وائرس پر ہونے کے باعث بچوں کی پیدائش کے دوران 60 ہزار خواتین بھی مر سکتی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات ہونے سے شرح اموات 39 فیصد بڑھ جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام طبی عملے کی توجہ کورونا وائرس کی جانب ہونے کے باعث اتنی بڑی تعداد میں اموات ہو سکتی ہیں مگر ان اموات سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کے کورونا وائرس کو بطور ایک بیماری سمجھ کر دیگر بیماریوں کی طرح ہسپتالوں کا کچھ عملہ اس کام پر مختص کیا جائے۔

ماہرین نے کہا کہ دوسری بیماریوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے جن کو نظر انداز کیا جارہا ہے ہسپتالوں سےنمونیا اور ملیریا کی دوائیں یہ سوچ کر ختم ہو رہی ہیں کہ یہ دوا کورونا وائرس کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے مگر ان بیماریوں سے متاثر ہونے والے مریضوں کو بروقت طبی سہولیات نہ ملنے سے بھی اموات ہو سکتی ہیں۔

ٹم رابرٹن کے مطابق اگر کسی معمولی بیماری کی صورت میں ہسپتال میں اس کی دوائی یا اس کے علاج کیلئے طبی عملہ یا لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں ہسپتال پہنچنے میں رکاوٹ پیش آئے نے ترقی پذیر ممالک میں اس کے مہلک اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بیٹ کامپمن جو کہ لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی عہدیدار ہیں کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں پہلے ہی خسرہ،چیچک اور اس جیسی خطرناک اور مہلک بیماریوں کی ویکسین پہنچنے میں وقت لگتا ہے اور اگر اس طرح کورونا کے باعث آبی اور فضائی راستے بند ہوں تو ویکسینیشن بروقت نہ ملنے پر اس سے بھی زیادہ تعداد میں اموات سامنے آسکتی ہیں ہمیں اپنی تمام تر توجہ صرف ایک مرض پر مبذول کرنے کے بجائے دیگر بیماریوں سے متعلق بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کورونا کے ثانوی اثرات سے اتنی بڑی تعداد میں اموات ہو سکتی ہیں جس کو فی الفور قابو کرنا بھی مشکل ہو جائے گا لہٰذا ہمیں ابھی سے اس صورتحال کی تیاری کر کے طبی عملے کو اس کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More