کرونا وائرس نے پاکستانیوں سے غریبوں کا مسیحا بھی چھین لیا

 

ڈاکٹر پھاگ چند 65 سال کی عمر میں اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہو گئے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر کے علاقے پاچا کلے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر پھاگ چند نے خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور عوام میں ان کی مقبولیت کی ایک وجہ کم فیس لینا تھی اسی وجہ سے علاقہ مکین ان کو غریبوں کا مسیحا بھی تصور کرتے تھے۔

صوابی کے ہسپتال میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے بعد ڈاکٹر پھاگ چند کا تبادلہ نوشہرہ کیا گیا مگر وہ پھر بھی صوابی میں اپنا کلینک چلاتے تھے اور وہاں ان کی فیس محض 50 روپے تھی جو کہ پاکستان میں کسی بھی پرائیویٹ ڈاکٹر کی سب سے کم فیس ہوگی۔

ڈاکٹر پھاگ چند کا سکھ مذہب سے تعلق تھا ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے بھی ڈاکٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر پھاگ چند مریضوں کو غیر ضروری ادویات نہیں لکھ کر دیتے تھے، وہ کسی فارما سیوٹیکل کمپنی کی اشتہاری مہم میں شامل ہوتے تھے اور نہ ہی کسی مخصوص کمپنی کی دوائیاں لکھتے تھے۔

ڈاکٹرپھاگ چند کوشش کرتے کہ مریض کو وہی دوا تجویز کریں جو سرکاری ہسپتال میں میسر ہو تاکہ مریض کو باہر سے دوا نہ لینی پڑے۔ وہ مریض سے پہلے اس کی معاشی حالت سے متعلق پوچھتے اور اگر کوئی مزدور یا غریب مریض آتا تو اپنی فیس معاف کر دیتے۔

ڈاکٹر پھاگ چند سے متعلق مشہور تھا کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنی فیس 50 روپے سے بڑھا کر100 روپے کر دی تو ان کی والدہ نے خواب میں آکر کہا کہ پھاگ تم نے غریبوں کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ لہٰذا انہوں نے اپنی فیس پھر سے50 روپے کردی۔

تاہم کچھ مہینوں پہلے ہی ڈاکٹر پھاگ چند نے دوبارہ فیس 100 روپے کر دی تھی مگر غریبوں اور غیر مسلموں کو فیس معاف تھی۔سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائیٹس پر ڈاکٹر پھاگ چند کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے ٹوئٹر پر ڈاکٹر پھاگ چند کے خاندان سے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ ڈاکٹر چند نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی مدد کرنے میں گزاری ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے پہلے ڈاکٹر اسامہ کا انتقال ہوا تھا

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More