پاکستان میں کوروناکی تشخیص کیلئے کیے جانے والے ٹیسٹ کی اہمیت اور قیمت

کورونا وائرس چونکہ دنیا بھر کو درپیش ایک نیا چیلنج اور بیماری ہے اسی لیے اس کی تشخیص کا کوئی بھی ایک طریقہ ابھی تک دنیا بھر میں رائج نہیں ہوا، اسی لیے کووڈ 19 کی تشخیص کیلئے دنیا بھر میں کئی قسم کے میڈیکل ٹیسٹ کیے جارہے ہیں، ان ٹیسٹوں کے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے نتائج کی حساسیت بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔

دنیا کے زیادہ تر ممالک میں کورونا کی تشخیص پی سی آرٹیسٹ کے ذریعے کی جارہی ہے، اور پاکستان نے بھی اسی طریقے کو اپنا یا ہے ، تاہم پاکستان کی کچھ پرائیویٹ لیبارٹریوں میں اینٹی باڈیز ٹیسٹ(آئی جی جی ، آئی جی ایم) بھی کیے جارہے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کیے جانے والے ٹیسٹ کی اہمیت اور قیمت
‘سواب ٹیسٹ’ یا پی سی آر ٹیسٹ کیلئے مشتبہ مریض کے منہ یا ناک کے ذریعے نمونہ لیا جاتا ہے، پنجاب کی سرکاری میڈیکل لیبارٹریوں کی ترجمان ڈاکٹر رافعہ حیدر کا کہنا تھا کہ اس ٹیسٹ کے دو مرحلے ہوتے ہیں پہلے مرحلے میں مشتبہ شخص کے نمونے میں سے آر این اے­(رائیبونیو کلک ایسڈ کو نکال کر الگ الگ کیا جاتا ہے، اس کے بعد آر این اے میں وائرس کی موجودگی کیلئے جانچ پرکھ کی جاتی ہے۔

یہ ایک مکینیکل طریقہ ہے جس کے بعد اگر نمونے میں وائرس پائے جانے کی تصدیق ہوجائے تو مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق کردی جاتی ہے، اس سارے عمل میں 24 سے 72 گھنٹے کا عرصہ لگتا ہے، سرکاری لیبارٹریوں میں یہ ٹیسٹ مفت جبکہ پرائیویٹ لیبارٹریوں میں یہ ٹیسٹ تقریبا 8 ہزار روپے تک کا کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کیے جانے والے ٹیسٹ کی اہمیت اور قیمت
کورونا کی تشخیص کیلئے کیا جانے والا دوسرا ٹیسٹ اینٹی باڈیز ٹیسٹ ہے اس کیلئے مشتبہ شخص کا خون کا نمونہ لیا جاتا ہے اور خون میں وائرس کی موجودگی کو جانچا جاتا ہے، گیٹز فارما کے شعبہ تحقیقات کے سربراہ وجیہہ جاوید کا کہنا تھا کہ جسم میں جب بھی کوئی وائرس داخل ہوتا ہے تو انسانی جسم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو اس وائرس کے خلاف انسانی جسم کی قوت مدافعت کو اس وائرس سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اینٹی باڈیز صرف کورونا کیلئے نہیں دیگر بیماریوں کیلئے بھی کیا جاسکتا ہے جس میں ہیپاٹائیٹس وغیرہ شامل ہیں، اس ٹیسٹ کیلئے کسی ہسپتال یا بہت جدید لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ذیابیطس کے ٹیسٹ کی طرح انگلی سے خون کا ایک قطرہ لے کر یہ ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے اور اس کی رپورٹ آنے میں بھی دس منٹ سے کم وقت درکار ہوتا ہے۔

وجیہہ جاوید نے مزید بتایا کہ اینٹی باڈیز ٹیسٹ دو طرح کے نتائج دیتا ہے ایک کہ مریض ماضی میں کسی وائرس کا شکار ہوا ہے یا نہیں ، اور دوسرا کہ ابھی جسم میں موجود انفیکشن کس مرحلے میں ہے، اس ٹیسٹ کی مدد سے بڑے پیمانے پر سکریننگ کی جاسکتی ہے کیونکہ اس سے وسیع پیمانے پر لوگوں کو ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے اور علامات ظاہر نہ ہونے والے کورونا مریضوں کو الگ کرکے دوسرے لوگوں کو اس سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے ، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ انہیں کورونا ہوا اور وہ ٹھیک ہوگئے ہیں اس ٹیسٹ سے ان کے جسموں سے پلازمہ لینے کیلئے کافی حد تک مدد لی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کیے جانے والے ٹیسٹ کی اہمیت اور قیمت

اس ٹیسٹ کی قیمت پی سی آر کی نسبت انتہائی کم ہے اس کی ٹیسٹنگ کٹ 1500 سے 2500 تک مارکیٹ میں دستیاب ہے، تاہم اس ٹیسٹ کو حکومت سرکاری سطح پراستعمال نہیں کررہی۔

پاکستان میں کورونا کے بیشتر مریضوں میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں ایسے ملک میں پی سی آر کے بجائے وسیع پیمانے پر اینٹی باڈیز ٹیسٹ کیا جانا چاہیے، گیٹز فارما نے اس ٹیسٹ کو متعارف کرواتے ہوئے ابتدائی طور پر اس کا استعمال اپنی کمپنی کے ہی چند ملازمین پر کیا جن میں سے چند مثبت کیسز سامنےآئے حالانکہ ان مریضوں میں کسی قسم کی علاما ت ظاہر نہیں ہورہی تھیں، اسی لیےوجیہہ جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وسیع پیمانے پر اس ٹیسٹ کے ذریعے سکریننگ کی جانی چاہیے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More