کورونا وائرس مارچ 2019 میں اسپین کے آلودہ پانی میں موجود تھا، تحقیق

اسپین میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مارچ 2019 میں کووڈ 19 کا وائرس اسپین کے آلودہ پانی میں موجود تھا۔

کووڈ 19 جس کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ 2019 کے آخری مہینوں میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا، بارسلونا یونیورسٹی کے ایک تحقیقاتی جنرل میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ وائرس اسپین کے آلودہ پانی میں 2019 کے شروع میں بھی اس کے آثار موجود تھے۔

بارسلونا یونیورسٹی کے حیاتیات کے پروفیسر اور ریسرچر البرٹ بوش کا کہنا تھا کہ” بارسلونا میں دوسرے ممالک سے آنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اسی لیے امکان ہے کہ کووڈ 19 کے غیر تصدیق شدہ مریضوں کو عمومی زکام کے کیسز شمار کیا گیا ہو، اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کے مریضوں کو ابتداء میں زکام کے مریض سمجھا گیا اور کسی قسم کی سیفٹی سے پہلے ہی یہ وائرس بہت بڑی تعداد میں افراد کو اپنا شکار بنا چکا تھا”۔

اسپین میں پہلے کورونا وائرس کی تصدیق 25 فروری کو کی گئی، حالانکہ یہاں 15 جنوری کو بھی آلودہ پانی میں کورونا وائرس کے آثار ملے تھے۔

اس تحقیق کو ماہرانہ رانے کیلئے پیش کیا جاچکا ہے، اگر ماہرین اس تحقیق کے تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس کی توثیق کردیتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ کورونا وائرس سامنے آنے سے بہت پہلے ہی پھیل چکا تھا۔

یاد رہے کہ ایسے ہی نتائج سے ملتی جلتی ایک تحقیق اٹلی میں بھی سامنے آئی تھی جس میں انکشاف کیاگیا تھا کہ اٹلی کے چند علاقوں کے استعمال شدہ پانی میں دسمبر 2019 میں کورونا وائرس کے آثار ملے ہیں،

فرانس کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا کہ ایک فرانسیسی شخص میں 27 دسمبر کو کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں حالانکہ فرانس میں پہلے کورونا وائرس کی تصدیق جنوری کے آخر میں کی گئی۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More