کرونا کے شکار سمیع ابراہیم کی موت کے منہ سے کیسے واپسی ہوئی؟

کرونا کے شکار سمیع ابراہیم کی موت کے منہ سے کیسے واپسی ہوئی؟

اینکر اور صحافی سمیع ابراہیم ہسپتال کے وارڈ میں موجود ہیں، انکی آواز سے ظاہر ہورہا ہے کہ کرونا کی وجہ سے وہ جسمانی کمزوری اور نقاہت کا شکار ہیں۔

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ کرونا کوئی مذاق نہیں ہے، وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں کرونا چھو کر گزر جاتا ہے لیکن اگر پھیپھڑوں میں چلاجائے تو بہت مصیبت ہوتی ہے، میرے بھی پھیپھڑوں میں چلا گیا تھا۔میں نے سوچا کہ میرا وقت آگیا ہے، اب میں نہیں بچوں گا۔مجھے مشین لگی ہوئی تھی، مجھے چار سائے نظر آئے، میں نے سوچا کہ شاید یہ میرا وہم ہے،میں نے آنکھیں بندکرلیں جب دوبارہ کھولی تو پھر چار سائے نظرآئے۔

وہ سائے آپس میں مکالمہ کررہے تھے، میں گھبرا گیا، پھر میں نے آنکھیں بندکرلیں جب دوبارہ کھولا تو ایک سایہ تھا جو میرے پاؤں کی طرف تھا جو میری طرف نہیں دیکھ رہا تھا، دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔

میرا یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کرونا کی علامات ظاہر ہوں تو تاخیر نہ کریں، فورا ڈاکٹرز کے پاس پہنچیں، آپ نے ٹیسٹ لازمی کروائیں، کرونا مدافعتی نظام پر اٹیک کرتا ہے، اگر مدافعتی نظام کرونا کے قبضے میں چلاجائے تو بہت مشکل ہوجاتی ہے، اسکے لئے انٹی وائرل اودیات استعمال کی جاتی ہیں

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم باہر کی دنیا سے مختلف ہیں، ہمارا جسم اور ہمارے روئیے باقی دنیا سے مختلف ہیں، میرے سامنے بہت خوبصورت نظارہ ہے جو مجھے آج بہت خوبصورت لگ رہا ہے لیکن کچھ دن پہلے مجھے موت کا سامان لگ رہا تھا۔

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ اب بہترہورہے ہیں، آج کل کتابیں پڑھ رہے ہیں، لیپ ٹاپ سے حالات حاضرہ سے باخبر ہورہے ہیں، آج عمران خان پر برا وقت آیا تو معلوم ہوگیا کہ کون لیڈ کررہا ہے۔ عمران خان کو مافیا کے کچھ لوگ جہانگیرترین کی شہہ پر کہہ رہے ہیں کہ اسکے پاس ان الیکٹڈ ہیں۔ عمران خان کے علاوہ الیکٹڈ ہے کون؟ اگر عمران خان انہیں ٹکٹ نہ دیتا تو یہ کونسلر بھی نہیں بن سکتے تھے۔

آج عمران خان کو فیل کرنے کی کوشش ہورہی ہے، میڈیا کے لوگ اسکے خلاف کمپین چلارہے ہیں، عمران خان کا قصور یہی ہے کہ اس نے جھوٹ کو ایکسپوز کیا ہے، اگر عمران خان انہیں پیسہ دے ، اشتہارات دے تو انکی نظر میں عمران خان سے بہتر کوئی نہیں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More