سنا مکی کے پتے کرونا مریضوں کیلئے فائدہ مند ہیں یا نقصان دہ؟

کچھ مریضوں کو سنا مکی کے پتے فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتے ہیں، چیئرمین کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ

چیئرمین کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ پروفیسر محمود شوکت نے واضح کر دیا کہ آج کل لوگ سنامکی کے پتوں کے ذریعے کورونا کا علاج کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی کورونا کے مریض یا عام افراد ایسے بھی ہیں جن کو سنا مکی کے پتوں سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو جاتا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ ایسے ٹوٹکوں سے پرہیز کریں۔

پروفیسر محمود شوکت نے کہا کہ لوگ ویسے کی اینٹی بائیوٹک لینا شروع کر دیتے ہیں ایسا مت کریں جب تک ڈاکٹر آپ کو کوئی دوا تجویز نہ کرے تب تک نہ کھائیں کیونکہ اس طرح کے وائرس پر ہر اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتی۔

چیئرمین کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ پروفیسر محمود شوکت نے کہا کہ عوام کو لاک ڈاؤن یا سمارٹ لاک ڈاؤن سے مطلب نہیں ہونا چاہیے لوگوں کو چاہیے کے حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل شعبہ طب سے وابستہ ایک حکیم آغا عبدالغفار نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں سنا مکی کے پتوں سے کورونا وائرس کے علاج کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سنا مکی سے کرونا علاج ممکن ہونے کی بات بھیڑ چال جیسی ہے۔

انہوں نے کہا میرے علم کے مطابق 2 ہزار سال کی تاریخ میں کسی حکیم یا طبیب نے سینے کے انفیکشن کے لیے سنا مکی کی جڑی بوٹی کے استعمال کی تجویز نہیں دی۔ سنا مکی سے کرونا کے علاج کی باتیں سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں جو کہ بے بنیاد ہیں، ہاں اس پودے کے پتوں سے قبض، آنت کی سوزش، سینے کے بھاری پن ، جیسے امراض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More