کرونا سے زیادہ بھوک سے لوگ مرسکتے ہیں،چیریٹی گروپ آکسفیم نے خبردار کردیا

کرونا سے زیادہ بھوک سے لوگ مرسکتے ہیں،چیریٹی گروپ آکسفیم نے خبردار کردیا

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث کہیں کرفیو، کہیں لاک ڈاؤن اور کہیں مختلف پابندیاں ہیں، جس سے نظام زندگی تھم کر رہ گیا ہے، جبکہ کاروبار زندگی بھی شدید متاثر ہورہاہے،بھوک اور افلاس بھی بڑھ رہا ہے، جس پر چیریٹی گروپ آکسفیم نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

آکسفیم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کرونا کی وجہ سے عائد پابندیوں اور کاروبار بند ہونے کے باعث بھوک سے زیادہ لوگوں کے مرنے کے امکانات ہیں۔ بھوک کا شکار ہونے والے افراد وائرس کا شکار بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ آکسفیم نے متنبہ کیا ہے کہ COVID-19 سے پیدا ہونے والی بھوک۔ بیماری سے زیادہ لوگوں کی جان لے سکتی ہے۔

چیریٹی گروپ کا کہنا ہے کہ امداد کی کمی ، بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور اشیائے خوردونوش کی پیداوار اور رسد میں خلل کے باعث رواں سال تخمینے کے مطابق 122 ملین مزید افراد فاقہ کشی پر مجبور ہونگے۔ درمیانی آمدنی والے ملکوں میں بہت سارے لوگ جو بھوک کی لکیر پر تھے ، وہ اس بحران کے باعث اس لکیر سے نیچے آسکتے ہیں۔ درمیانی آمدنی والے ممالک جیسے بھارت ، برازیل اور جنوبی افریقہ میں بحران کے معاشرتی اور معاشی اثرات کی وجہ سے لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہورہے ہیں۔

آکسفیم کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے فصلوں کی کٹائی اور خوراک کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے ، آمدنی میں کمی آئی ہے اور خوراک تک رسائی بہت مشکل ہوگئی ہے۔ آکسفیم نے 10 ایسے ممالک کے نام بتائے جن کو بھوک کا خطرہ ہے، جن میں افغانستان ، شام اور جنوبی سوڈان شامل ہیں – جہاں چیریٹی کے مطابق صورتحال انتہائی سنگین ہے۔

آکسفیم کے مطابق افغانستان میں مزید ایک ملین افراد قحط کے دہانے پر جارہے ہیں۔ یہ تعداد ستمبر 2019 میں ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر مئی 2020 میں ساڑھے تین لاکھ ہوگئی ہے۔یہ صورتحال سرحدوں کی بندش کا باعث ہے، جس میں اشیائے خوردونوش کی رسد اور ایران میں معاشی بدحالی کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

آکسفیم نے اس صورتحال کو ہنگر وائرس کا نام دیا ہے، جسے روزانہ 12،000 افراد کی موت کے برابر تشبیہ دی گئی ہے۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ یہ اپریل میں یومیہ 10،000 شرح عالمی سطح پر موت کی شرح سے زیادہ ہے۔

چیریٹی گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس سال سب سے بڑی خوراک اور مشروبات میں آٹھ کمپنیوں نے شیئر ہولڈرز کو اٹھارہ بلین ڈالر کی ادائیگی کی ہے،اقوام متحدہ کی COVID-19 کی اپیل میں سب سے کمزور ممالک کو خوراک اور زراعت سے متعلق امداد کے لئے 10 گنا سے زیادہ فنڈز کی رقم مختص کی گئی ہے۔

آکسفیم جی بی کے چیف ایگزیکٹو ڈینی سسکنداراجہ نے کہا کہ حکومتیں اقوام متحدہ کو کووڈ 19 کی اپیل کی مالی اعانت فراہم کرکے اور "اس وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرسکتی ہیں جبکہ برطانیہ اگلے ہفتے جی 20 کے وزرائے خزانہ کی میٹنگ میں قرضوں کی منسوخی پر بات کرکے متاثرین کی امداد کیلئے اقدامات کرسکتا ہے۔

  • Imran Khan did the right thing by taking the health system and economy in parallel otherwise we could end up in a situation where we would have seen more devastation due to poverty and joblessness than Corona Itself.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >