وزیراعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق حکمت عملی کی دنیا معترف

پاکستان میں جون کے وسط میں کرونا کے6 ہزار 800 کیسز رپورٹ ہوئے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ کیسز نمایاں کمی کے ساتھ 1487 پر آ گئے ہیں، دنیا نے وزیراعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی کو سراہا ہے جو انسانی زندگی اور روزگار میں توازن کی حکمت عملی تھی۔

13 جون کو پاکستان میں29 ہزار 546 ٹیسٹ ہوئے اور 6825 کیس رپورٹ ہوئے جو کہ ملک میں کورونا کیسز کی سب سے زیادہ رپورٹ شدہ تعداد تھی،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 ہزار 630 ٹیسٹ کئے گئے اور صرف 1487 کیس مثبت آئے۔

پاکستان میں ہونے والے کل 18 لاکھ 44 ہزار 926 ٹیسٹ میں سے 2 لاکھ 71 ہزار 887 پازیٹو تھے،جن میں سے 2 لاکھ 36 ہزار596 صحت یاب ہوچکے ہیں اور 5787 اموات ہوئی ہیں تاہم وزیر اعظم کی جانب سے مکمل لاک ڈاﺅن کی مخالفت کی وجہ سے خطے کے دوسرے ممالک اور ترقی پذیر دنیا کی نسبت جن کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی ہے، پاکستان معاشی تباہی کے خوف سے باہر نکل آیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ابھی تک کا واحد حل سمارٹ لاک ڈاﺅن ہی سامنے آیا ہے، جو ایس او پیز کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے اور ہم اس سوچ کے بانیوں میں سے ہیں۔

ایمپیئریل کالج لندن نے اپنی ایک حالیہ سٹڈی میں پاکستان کو جولائی 2020 کے ڈیٹا کے مطابق کورونا وائرس کی ری پروڈکشن میں چوتھا نمبر دیا ہے۔ پاکستان نے 0.73 ریٹ حاصل کیا ہے جبکہ کورونا سے بچاؤ کی کاوشوں میں ایک سے نیچے کی شرح کو بہترین قرار دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان سے اوپر کا درجہ حاصل کرنے والے ممالک جرمنی اور پرتگال کورونا وائرس کی روک تھام کےلئے سمارٹ لاک ڈاﺅن کے تصور کی وکالت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں بار بار حفاطتی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ان اقدامات کے نتائج ظاہر ہوئے ہیں، آپ کئی ترقی پذیر ممالک اس پالیسی کو فروغ دے رہے ہیں۔ جرمن، اٹلی، پرتگال بھی کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے شہری شٹ ڈاﺅن کا جائزہ لے رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ممالک اب پورے ملک کو بند کرنے کے برعکس زیادہ کیسز والے علاقوں کو بند کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی بزنس سٹینڈرڈ نے وزیراعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی کو سراہا۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی کا مقصد ملک اور بالخصوص روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جہاں پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف دنیا کے مختلف ممالک بلکہ بین الاقوامی اداروں نے بھی وزیراعظم عمران خان کی صحت اور ذرائع معاش میں توازن پیدا کرنے کے مطالبہ کی حمایت کی جس کا مقصد غربت اور بھوک سے زیادہ اموات کے خطرات سے لوگوں کو بچانا ہے۔

دنیا کے 90 ممالک میں غربت و عدم مساوات کے خلاف کام کرنے والی 20 این جی اوز کی کنفیڈریشن آکسیفم کے مطابق سال کے اختتام تک کورونا سے منسلک بھوک و افلاس کے باعث روزانہ 12 ہزار اموات کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہو سکتی ہیں کیونکہ اپریل میں کورونا کی شدت کے عرصہ میں دنیا میں اموات کی شرح 10 ہزار یومیہ رہی۔ اس طرح بھوک و افلاس کے نئے ہاٹ سپاٹ ظاہر ہو رہے ہیں۔

آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق بھارت، جنوبی افریقہ اور برازیل جیسے اوسط آمدن والے ممالک میں بھوک کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ کورونا وبا کے باعث کروڑوں لوگ غربت کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں حتیٰ کہ امیر ترین ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ امریکی ادارہ بلوم برگ نیوز ایجنسی نے بھی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی کو امید کی واحد کرن قرار دیا ہے جس کے ذریعے ویکسین آنے تک دنیا میں معمول کی زندگی کی طرف لوٹا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اختیار کی گئی متوازن حکمت عملی اور پالیسی کو دنیا بھر کے میڈیا اور معروف سائنسدانوں نے بھی سراہا ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق نوبل انعام یافتہ سائنسدان میخائل لیوٹ نے مئی میں خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاﺅن سے جتنی جانیں بچائے جانا مقصود ہے اس سے زیادہ اموات واقع ہو سکتی ہیں کیونکہ لوگوں کو گھروں میں بند کرنے کا فیصلہ بہترین سائنسی اصولوں کی بجائے خوف و ہراس کی کیفیت میں مبتلا ہو کر کیا گیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے اندازہ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث خوراک کی قلت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد سال کے آخر تک 270 ملین تک پہنچ سکتی ہے جو کہ 2019 کے مقابلہ میں 82 فیصد اضافہ ہو گا۔

رپورٹ میں دنیا کے 10 ان ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جو غذائی قلت کا بری طرح شکار ہو سکتے ہیں۔ ان میں یمن، عوامی جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی)، افغانستان، وینزویلا، مغربی افریقی ساحل، ایتھوپیا، سوڈان، جنوبی سوڈان، شام اور ہیٹی شامل ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >