بھارت:کروناوائرس میں مبتلاہونے پر بیٹے نے 90 سالہ بوڑھی ماں کوجنگل میں پھینک دیا

بھارت ریاست مہاراشتڑا کے شہر اورنگ آباد میں ایک بیٹے نے اپنی 90 سال کی بوڑھی ماں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پراسکا علاج کرانے کی بجائے جنگل میں پھینک دیا اور وہاں سے فرار ہوگیا۔

محکمہ جنگلات کے رضاکاروں نے نیم مردہ حالت میں بزرگ خاتون کو دیکھا تو اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا جہاں اسکا علاج جاری ہے اور 90 سالہ بوڑھی خاتون کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ضعیف خاتون نے بتایا کہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر بیٹا مجھے جنگل میں پھینک کر چلا گیا۔

پولیس نے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرکے اہل خانہ کی تلاش شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق معمر خاتون ایک گھنٹے تک جنگل میں تڑپتی رہیں لیکن اب انہیں خاتون کو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عمررسیدہ خاتون کورونا پازیٹیو تھی ، جس کی وجہ سے گھر والے ان کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے تیار نہیں تھے اور بیٹے نے ماں کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر جنگ میں مرنے کیلئے اکیلا چھوڑدیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں جہالت اور لاعلمی کے باعث کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ کورونا وائرس سے مرنے والے مریضوں کی آخری رسومات ادا کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔ کچھ روز قبل ہونیوالے ایک واقعہ کے مطابق جب ایک کرونا سے مرنیوالے مریض کے اہلخانہ نے آخری رسومات کی تدفین سے انکار کیا تو اس محلے کے مسلمانوں نے مل کر اسکی آخری سومات کا بندوبست کیا۔

ایک اور واقعہ کے مطابق بھارت میں کرونا سے وائرس سے مرنیوالی خاتون کے رشتہ داروں نے شرکت سے انکار کیا تو اسکے بیٹے نے اپنی والدہ کو ایک ریڑھی پر ڈال کر شمشان گھاٹ پہنچایا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >