بل گیٹس کی غریب ممالک تک کم قیمت کرونا ویکسین پہنچانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری

کرونا وائرس: بل گیٹس نے غریب ممالک تک کم قیمت میں کرونا کی ویکسین کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے اہم اعلان کر دیا۔

پوری دنیا کم و بیش اس وقت کرونا کی لپیٹ میں ہے اور تمام ممالک کی جانب سے اس جان لیوا وبا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری کی کوششیں جاری ہیں، لیکن تاحال کوئی بھی ملک کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم بیشتر ممالک کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے کرونا وائرس کی ویکسین کے ٹرائل کے آخری مراحل میں داخلے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔

انڈیپنڈنٹ  کے مطابق بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے دنیا کی سب سے بڑی ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے لئے کرونا وائرس کی ویکسین کی سستی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

گیٹس فاؤنڈیشن اور سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے درمیان باہمی معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو ویکسین کی 100 ملین خوراکیں تقسیم کرے گی، تاہم اگر زیادہ ضرورت محسوس کی گئی تو دوبارہ فراہمی کا آپشن بھی موجود ہوگا۔

گیٹس فاؤنڈیشن اور سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے درمیان ہونے والی شراکت داری کے تحت جب بھی کرونا وائرس کی حتمی ویکسین تیار اور اس کو استعمال کرنے کی منظوری مل جائے گی تو ٹیم 2021 کے پہلے نصف حصے میں مینوفیکچرنگ کا کام شروع کر دے گی۔

بل گیٹس فاؤنڈیشن اور سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے مالدار ممالک کرونا وائرس کی حتمی منظور شدہ ویکسین کو حاصل کرنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

یوں تو پوری دنیا میں کرونا وائرس کے ٹرائل جاری ہیں لیکن ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے کرونا وائرس کی ایک خوراک کی قیمت وصول کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی نے کرونا وائرس کی ویکسین کی ایک خوراک تین ڈالر میں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جب کہ دوسری جانب امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی موڈرینا کی جانب سے فی خوراک 74 ڈالرز وصول کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

انڈیپنڈنٹ  کے مطابق بل گیٹس فاؤنڈیشن سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کرونا وائرس کی مکمل تیار شدہ ویکسین کم ترقی یافتہ ممالک تک کم سے کم قیمت میں پہنچے،  اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دنیا کبھی بھی کرونا وائرس سے نجات حاصل نہیں کر پائے گی۔

  • میں نے کہاوت سنی تھی کہ افغانستان میں موچی بھی دوائ دے دیتا ہے اور لوگ شوق سے موچی کو لالہ کہہ کر سوسز کم قیمت پر حاصل کرتے ہیں پھر انکشاف ہوا کہ امریکی افغانستان سے جا کیوں نہیں رھےکیوںکہ ان کو یہ بلکل اپنا گھر دکھتا ہے یہ ایسے ہی ہے کہ پٹھان بھائ کو چاند پہ نسوار کی دکان مل جائے…. بلی دا گیٹس نے ثابت کر ڈالا امریکہ بھی افغانستان جیسا نکلا…. بھلا دیکھو تو وہاں بھی تو موچی ہی دوائ دے رھا ہے….


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >