رضا کار کے نامعلوم بیماری کا شکار ہونے پر کورونا ویکسین کے ٹرائلز رک گئے

مشہور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے تیار کی گئی ممکنہ ویکسین کے ٹرائلز کے دوران ایک رضا کار کے نامعلوم بیماری کا شکار ہونے پر ٹرائلز کو روک دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کسی بھی ویکسین کے ٹرائلز کے دوران احتیاطی معیار سیٹ کیا جاتا ہے، جس کا مقصد ٹرائلز کا حصہ بننے والے رضاکاروں کی سیفٹی کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ویکسین رضاکاروں پر کسی قسم کا منفی ردعمل نہ کرے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آکسفورڈ کورونا وائرس ویکسین کے جاری ٹرائلز کے سیفٹی جائزے کیلئے ٹرائلز کو روکا جارہا ہے، یہ معمول کا اقدام ہے جو اس وقت لیا جاتا ہے جب ٹرائلز کے دوران کسی بھی رضا کار میں کوئی نامعلوم بیماری دیکھنےمیں آتی ہے، اس کیلئے ٹرائلز کو روک کر اس بیماری عوامل سے متعلق تحقیق کی جاتی ہے تاکہ ٹرائلز کی سالمیت کو برقرار رکھا جاسکے۔

آسٹرازینیکا کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جو ویکسین تیار کررہی ہے اسے آکسفورڈ ویکسین کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے امریکہ، برطانیہ، لاطینی امریکہ، ایشیا ، افریقہ اور یورپ میں تیار کی گئی ہے۔

کمپنی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس جیسی بڑی بیماری کی ویکسین کی تیاری اور ٹرائلز کے دوران نامعلوم بیماریوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، اسی لیے ٹرائلز کے دوران جب بھی ایسی صورتحال سامنے آتی ہے تو ٹرائلز کو روک کر اس بیماری سے متعلق آزادنہ تحقیقات کی جاتی ہیں۔

ہماری کوشش ہے کہ ٹرائلز کے ٹائم فریم پر اس کا اثر نہ پڑے اسی لیے ہم کام کی رفتار کو تیز کررہے ہیں، یہ ہم پر پابند ہے کہ ہم ٹرائلز کا حصہ بننے والے رضا کاروں کی حفاظت کریں۔
یاد رہے کہ چین کے شہر ووہان سے مبینہ طور پر پوری دنیا میں پھیلنے والی اس بیماری سے بچاؤ کیلئے دنیا بھر میں ادویات ساز کمپنیوں کے سائنسدان دن رات کام کررہے ہیں، آکسفورڈ ویکسین کے علاوہ 2 مزید ویکسینز ایسی ہیں جنہیں سائنسدانوں نے تیار کرنے کے بعد انسانوں پر ٹرائلز بھی شروع کردیے ہیں، مگر ادویات ساز کمپنیوں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ویکسین کےتیار ہونے میں ابھی بھی کافی وقت درکار ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>