کرونا کی دوسری شدید لہر کی وجہ سے پابندیاں ناگزیر ہو چکیں،ڈاکٹر فیصل سلطان

احتیاطی تدابیر نظرانداز، پاکستان میں کرونا کی دوسری شدید لہر کا آغاز ہو چکا ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چار سو سے بڑھ کر 700 یومیہ ہوچکی ہے، کرونا وائرس کی پاکستان میں دوسری شدید لہر کا آغاز ہو چکا ہے لہذا ہمیں کرونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل درآمد پہلے سے زیادہ کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی دوسری شدید لہر کے پیش نظر عوامی مقامات اور ہجوم والی جگہوں پر کسی کو بھی ماسک پہننے اور کرونا کے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، ملک میں جس قدر کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی یومیہ تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں کرونا وائرس کی پابندیوں کو مزید سخت کرنا پڑے گا ۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں جائزہ لیا جا رہا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے زیادہ کورونا والے علاقوں میں کاروبار کےاوقات کار میں تبدیلی زیرغورہے۔

دوسری جانب نے کرونا وائرس کی ملک میں دوسری شدید لہر کے آغاز کی وجہ سے ماہرین صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یومیہ کی بنیاد پر کرونا وائرس کے کیسز  بڑھتے چلے جارہے ہیں لہذا پرائمری کے بچوں کو اسکول نہ بھیجا جائے اور پرائمری کلاسز کے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے گھروں میں تعلیم دی جائے۔

معروف ماہر امراض اطفال اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سینٹر کے خازن پروفیسر ڈاکٹر جمیل اختر کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا سے بچے خود تو کم متاثر ہوتے ہیں لیکن جب وہ سکول سے گھر جاتے ہیں تو وہ اپنے ماں باپ اور اس پاس کے لوگوں کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کا اسکول جانا بچے اور اس کے اہل خانہ کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >