صدی کی خطرناک عالمی وبا کورونا کو ایک سال مکمل

فرانس میں یومیہ کورونا متاثرین کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی

کورونا وائرس ایسا وائرس جسے صدیوں تک نہیں بھلایا جائے گا اور اب صدی کی اس خطرناک وبا کو ایک سال مکمل ہوچکے ہیں، چین کے شہر ووہان میں سترہ نومبر دوہزار انیس کو کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا سب سے پہلے ووہان میں ہی کورونا وائرس پر قابو پایا گیا،کہا گیا کہا گیا کہ کورونا وائرس جانورں سے انسانوں میں منتقل ہوا، پھر ریسرچ کے ساتھ ساتھ یہ بات سامنے آئی کے وائرس چمگادڑوں سے پھیلا ہے۔

چین نے کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ایک ہزار بستروں پر مشتعمل اسپتال 6 روز میں تعمیر کر دیا تھا۔ دوسری جانب ووہان میں ہر قسم کی آمدورفت معطل اور لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن لگادیا گیا، یہ وہ وقت تھا جب دنیا پر خوف طاری تھا، زندگی کا پہیہ بالکل جام ہوچکا تھا۔ کیسز روز بروز بڑھ رہے تھے۔

کورونا وائرس کی عام علامات میں نظام تنفس کے مسائل ،کھانسی، سانس پھولنا، سانس لینے میں دشواری،نزلہ، نظام انہضام کے مسائل،الٹی، اسہال اور تھکاوٹ جیسی علامات شامل ہیں۔ شدید انفیکشن نمونیہ، سانس نہ آنے یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

دیکھتے دیکھتے اس وائرس نے پورے یورپ میں تباہی مچائی، اٹلی کو شدید متاثر کیا، جس کے بعد جرمنی، فرانس، روس، برازیل، امریکا ، پاکستان، بھارت سمیت دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، عالمی ادارہ صحت نے گیارہ مارچ کو اسے عالمی وبا قرار دیا۔

کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے سفری پابندیاں، قرنطینہ، کرفیو، اجتماعات اور تقریبوں کا التوا یا منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔ تعلیمی ادارے بھی لمبے عرصہ بند رہنے کی وجہ سے طلبا کی تعلیم بہت زیادہ متاثر ہوئی آن لائن سسٹم متعارف ہوا۔

اور اب یہ وائرس جیسے زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اب پھر سے دنیا اس مقام پر آگئی ہے کہ دوبارہ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا جارہاہے،کورونا وائرس کی دوسری لہر نے دنیا بھر میں سنگین صورتحال اختیار کرلی، ایک روز میں مزید پانچ لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، متاثرین کی تعداد پانچ کروڑ تریپن لاکھ سنتالیس ہزار چار سو چھیتر ہوچکی ہے، وائرس تیرہ لاکھ بتیس ہزار ایک سو تینتیس افراد کی زندگیاں نگل چکا ہے، روس میں کیسز بڑھنے پر آئس رنک کو کورونا مریضوں کے لیے عارضی اسپتال بنا دیا گیا،روس میں ایک روز میں بائیس ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، کورونا کیسز انیس لاکھ اڑتالیس ہزار سے زائد ہوچکے ہیں جبکہ ایک روز میں تین سو تین اموات ہوئی ہیں، مجموعی تعداد تینتیس ہزار سے زائد ہیں، برازیل میں ایک روز میں دوسو سولہ اموات ہوئی ہیں،مجموعی تعداد اموات ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے زائد اوارایک روز میں تیرہ ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے،مجموعی کیسز اٹھاون لاکھ چھیتر ہزار سے زائد ہوچکے ہیں، بھارت میں ایک روز میں مزید انتیس ہزار ایک سو چونسٹھ کیسز رپورٹ ہوئے، متاثرہ مریضوں کی تعداد اٹھاسی لاکھ چوہتر ہزار سےزائد جبکہ چار سو اننچاس اموات کے بعد مجموعی اموات ایک لاکھ تیس ہزار پانچ سو انسٹھ ہوگئیں۔

امریکا میں کورونا نے مزید شدت اختیار کرلی، کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، ایک روز مزید ڈیڑھ لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، مجموعی تعداد ایک کروڑ پندرہ لاکھ اڑتیس ہزارسے تجاوز،مجموعی ہلاکتیں دولاکھ باون ہزار چھ سو اکیاون تک پہنچ گئیں، سات روز میں کورونا کے دس لاکھ سے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، مشی گن اور واشنگٹن میں تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے جبکہ اجتماعات گھروں تک محدود کردیئے گئے۔

یورپ میں بھی کورونا کے وار جاری ہیں،برطانیہ میں بھی کورونا کی دوسری لہر شدید ہوگئی، یومیہ کیسز اکیس ہزار سے زائد اور اموات دو سو سے زائد سامنے آرہی ہیں،برطانیہ میں کورونا کیسز تیرہ لاکھ نوے ہزار سے زائد جبکہ اموات باون ہزار سے زائد ہوچکی ہیں، پابندیاں مزید سخت کرنے پر غور کیا جارہاہے، وزیراعظم بورس جانسن گھر سے حکومتی امور انجام دے رہے ہیں،اٹلی میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد بارہ لاکھ پانچ ہزار سے تجاوز کرگئے، اموات پنتالیس ہزار سے زائد ہوگئیں،فرانس میں مجموعی ہلاکتیں پنتالیس ہزار چوون ہو چکی ہیں،اورکیسز انیس لاکھ اکیانوے ہزار سے بڑھ گئے،سویڈن میں سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کیلئے اجتماعات پر پابندی لگادی گئی، صرف آٹھ افراد ہی ایک جگہ اکٹھے ہوسکتے ہیں،جنوبی کوریا میں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد پابندیاں مزید سخت کرنے پر غور کیا جارہاہے، مذہبی تقریبات، عوامی اجتماعات میں صرف سو افراد ہی جمع ہوسکیں گے، جنوبی کوریا میں کورونا سے اموات چار سو چورانوے اور کیسز اٹھائیس ہزار سے زائد ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >