پاکستان میں برطانوی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت

پاکستان میں برطانوی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت

کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ملک میں اہم اقدام اٹھالیا گیا، پاکستان نے کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے، ڈریپ رجسٹریشن بورڈ نے برطانوی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی،اے زیڈڈی 1222 کورونا ویکسین آکسفورڈ،آسٹرازنیکا کی تیارکردہ ہے،منظوری پر آسٹرازنیکاویکسین دررآمدکی جائے گی اور پاکستان میں استعمال ہو سکے گی۔

برطانوی ویکسین کے استعمال کی اجازت پاکستان کمپنی نے مانگی تھی ،کراچی کی فارما کمپنی آسٹرازنیکا کورونا ویکسین درآمد کرے گی ،کراچی کی فارما کمپنی اسٹرازنیکا ویکسین کی قیمت حکومت طے کرے گی،آسٹرازنیکا کورونا ویکسین برطانوی وزارت صحت سے منظور شدہ ہے اورآسٹرازنیکا کی کورونا ویکسین کی کامیابی کاتناسب 62 فیصدہے۔

پاکستان میں کورونا کے وار جاری ہیں، ایک دن میں اکتالیس ہزار سے زائد ٹیسٹ کئے گئے، جن میں کورونا کے دو ہزار پانچ سو اکیس نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ کورونا متاثرین کی کل تعداد پانچ لاکھ انیس ہزار سے تجاوز کرگئی ۔۔ نیشنل اینڈ کمانڈ سینٹر کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں تینالیس افراد جاں بحق ہوگئے۔۔ جاں بحق افرادکی مجموعی تعداددس ہزار نو سے زیادہ ہوگئی۔

گزشتہ روز وزیرصحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا کہ وفاقی حکومت کورونا ویکسین خریدنے کی اجازت طلب کی ہے، وائرس کے اثرات میں تبدیلی آرہی ہے، وفاقی حکومت کورونا ویکسین خریدنے کی اجازت دے، لگ رہاہے ہم آخری ملک ہوں گےجن کے پاس کورونا ویکسین آئے گی، وفاقی حکومت سےویکسین کے حصول کیلئے بارہا باتیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وفاق سے بات ہوئی ،ویکسین کہاں سے کس مینوفیکچر سے ،کتنی اور کس ٹائم فریم میں لی جائے گی ، ہمیں کچھ اندازہ نہیں کتنی اور کس ٹائم فریم میں ویکسیں آئے گی، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے ،ہمیں 70سے 80فیصد افراد کو ویکسین لگانی ہے ،ویکسین کیلئےچین کی حکومت سے بات ہوئی ہے ، لیکن حصول وفاق کا کام ہے بطور صوبہ ہم چین سے براہ راست ویکسین نہیں لے سکتے۔

انہوں نے کہا تھا کہ چینی ویکسین کے کراچی یونی ورسٹی، انڈس اسپتال اور آغا خان اسپتال میں ٹرائل ہوئے ہیں،یہ وائرس بہت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، ویکسین نجی شعبے سے بھی خرید کر لوگوں کومفت لگانےکے حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کروں گی،حکومت لوگوں کو ویکسین مفت میں لگائے گی، ویکسین لگنے کے بعد بھی ماسک پہننا پڑے گا۔

وزیر صحت سندھ کا کہنا تھا کہ سائنوفارم ویکسین چینی حکومت خود بنارہی ہے، پورےپاکستان کے لیے ایک ہی ویکسین نہیں ملے گی، ڈریپ نے دو ویکسین کی منظوری دے دی،وفاقی حکومت اجازت دے ہم اپنے لوگوں کے لیے خود ویکسین خریدیں، پورے صوبے کے لیےایک ساتھ کورونا ویکسین نہیں منگواسکتے، ہر مہینے تھوڑا تھوڑا خرچ کرکے منگوائیں گے۔

دوسری جانب چینی حکومت کا کہنا ہے کہ ویکسین کے لیے وفاقی حکومت یا وزارت خارجہ کے ذریعے رابطہ کریں، سائنوفارم چین،یواے ای سمیت کئی ممالک میں استعمال ہورہا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>