اسد عمر نےکورونا ویکسین منگوانے سے متعلق سندھ حکومت کا الزام مسترد کر دیا

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کہا ہے کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں نہ صرف کورونا ویکسین آجائے گی بلکہ لگنا بھی شروع ہوجائے گی اور ہماری پہلی ترجیح ہیلتھ ورکرز ہوں گے۔

نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ویکسین آنے کے بعد پہلے مرحلےمیں ہیلتھ ورکرز کو لگائی جائے گی، اس حوالے سے حکومت نے رجسٹریشن کا کام بھی تقریبا مکمل کرلیا ہے، اور اب تک پورے ملک سے 3 لاکھ ہیلتھ ورکرز کی رجسٹریشن کرچکے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ پورا نظام بناچکے ہیں، جن لوگوں کو ویکسین لگانی ہے ان کی تربیت سے لے کر لوگوں کی تعیناتی تک سب تیار ہے اب بس ویکسین کی آمد کا انتظار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کورونا ویکسین میں کسی قسم کی اجارہ داری قائم نہیں کرے گی، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی منظوری کے بعد صوبے اور نجی شعبہ بھی ویکسین درآمد کرسکتے ہیں، میں یہ غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں کہ صوبے ویکسین درآمد نہیں کرسکتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسٹرازینیکا کی ویکسین کو ڈریپ کی جانب سے ایمرجنسی استعمال کی اجازت مل چکی ہے، سائنو فام کی ویکسین کیلئے تکنیکی کمیٹی اصولی منظوری دے چکی ہے اب بس نام طے ہونا باقی ہے جو پیر منگل تک فائنل ہوجائے گا۔

ایک اور کین سائنو کی ویکسین کے ٹرائلز بھی فروری کے مہینے میں مکمل ہوجائیں گے ، اگر نتائج مثبت ہوئے تو مارچ میں یہ ویکسین بھی دستیاب ہوجائے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >