بھارتی کورونا ویکسین ہیلتھ ورکرز کیلئے موت کا سامان بن گئی

بھارت میں مقامی طور پرتیار کردہ کورونا وائرس کی ویکسین بچاؤ کے بجائے موت کا سامان بن گئی ہے، ویکسین لگوانے کے اگلے ہی دن ایک اور ہیلتھ ورکر جاں بحق ہوگیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اس مہم میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ویکسین کا استعمال کیا جارہا ہے۔

ویکسینیشن کے پہلے مرحلے میں تمام ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائی جارہی ہے مگر اسی دوران ایک 42 سالہ ہیلتھ ورکر جسے ایک روز قبل ویکسین لگائی گئی تھی جاں بحق ہوگیا جس سے مقامی سطح پر تیار کی گئی اس ویکسین پر کئی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والا ہیلتھ ورکر وٹھل ایک ایمبولینس ڈرائیور تھا جسے گزشتہ روز بھارتی ریاست تلنگا کے علاقے کنٹالہ کے ایک ہیلتھ کیئر سینٹر میں ویکسین لگائی گئی تھی۔

وٹھل ویکسین لگوانے کے بعد اپنی ڈیوٹی سے چھٹی کرکے گھر چلا گیا جہاں رات گئے اس کے سینے میں تکلیف اٹھی جس کے بعد اس کے اہلخانہ نے اسے قریبی ہسپتال منتقل کیا ، تاہم طبی امداد ملنے کے باوجود وٹھل صبح ساڑھے 5 بجے جاں بحق ہوگیا۔

ریاست کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ وٹھل کو گزشتہ روز پہلی ڈوز دی گئی تھی اس کی موت کی وجہ ویکسین نہیں دل کا دورہ تھا۔

واضح رہے کہ بھارت میں ویکسین لگوانے کے فوری بعد ہلاک ہونے والا یہ پہلا ہیلتھ ورکر نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی 2 ہیلتھ ورکرز ویکسین لگوانے کے بعد جاں بحق ہوگئے تھے، تاہم بھارتی وزارت صحت نے ان تینوں ہلاکتوں کی وجہ کورونا ویکسین کو ٹھہرائے جانے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>