کورونا وائرس کو سازش سمجھنے والا نوجوان اسی وائرس کا شکارہوکر جاں بحق ہوگیا

کورونا وائرس کو ایک مذاق اور سازش سمجھنے والا برطانوی نوجوان اسی وائرس کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

بین الاقومی خبررسا ں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے شہر  شروبری کے رہائشی 46 سالہ گیری میتھیوز کی لاش اس کے فلیٹ سے برآمد ہوئی ہے،  مقتول ایک ہفتے سے شدید بخار میں مبتلا تھا اور  انتقال سے ایک روز قبل اس کی کورونا وائرس کی رپورٹ مثبت آئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق  گیری میتھیوز کورونا وائر س کو  ایک سازش سمجھتا تھا اور اس کی حقیقت  کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا، اس کا ماننا تھا کہ یہ حقیقت میں کوئی بیماری نہیں ہے۔

گیری صرف ان خیالات کو خود تک محدود ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ کھلے عام کورونا  وائرس کی ایس او پیز کی مخالفت بھی کرتا تھا، جیسا کہ ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا وہ ان سب باتوں کو مضحکہ خیز قرار دیا کرتا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق   گیری اپنے جیسی سوچ رکھنے والے دیگر لوگوں کو کہا کرتا تھا کہ وہ دمے کی بیماری میں مبتلا ہے، اس بیماری کی وجہ سے اسے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں نے  ان ہیلر استعمال کرنے اور احتیاط کرنے کا مشورہ بھی دیا مگر وہ ان باتوں پر بھی کان نہیں دھرتا تھا۔

گیری کے ایک دوست جو کورونا وائرس کے حوالے سےا س کا ہم خیال ہی تھا اس کا کہنا تھا کہ گیری کورونا وائرس کے باعث جاں بحق نہیں ہوا، اس نے خود کشی کی ہے۔ تاہم گیری کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >