پاکستان نے برطانوی کویڈویکسین آسٹرازینیکا حاصل کر لی،ویکسین کب تک پہنچے گی؟

عالمی وبا کرونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وفاقی وزیر برائے ترقی و اصلاحات اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے ہونے والے اجلاس میں این سی او سی کی کرونا ویکسین کی فراہمی کی حکمت عملی کا سرپرائز سامنے آ گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے ترقی و اصلاحات اسد عمر کا کرونا وائرس کی ویکسین کی پاکستان میں فراہمی کے حوالے سے خوشخبری سناتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی ویکسین بنانے والی فارماسیوٹیکل کمپنی کوویکس کی جانب سے آسٹرازینیکا ویکسین کی 1 کروڑ 70 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کا خط موصول ہو گیا۔

اسد عمر کا قوم کو اپنے ٹویٹ کے ذریعے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتانا تھا کہ کرونا وائرس کی ویکسین فروری کے پہلے ہفتے سے ملنا شروع ہو جائے گی،ویکسین بنانے والی کمپنی کوویکس کی جانب سے 6 ملین ویکسینز مارچ تک مل جائیں گی، جب کہ تمام 17 ملین خوراکیں 2021 کے پہلے نصف میں موصول جائیں گی، انہوں نے کہا کہ کمپنی  کے ساتھ ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کا معاہدہ 8 ماہ پہلے کیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی کرونا وائرس کی ویکسین کی پاکستان میں دستیابی کے حوالے سے خوش خبری سناتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ چینی کمپنی سائنو فارم کی جانب سے 5 لاکھ ویکسین ڈوزز کے علاوہ آسٹرازینیکا کی جانب سے رواں سال ویکسین مل جائے گی۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا ٹوئٹر پر جاری اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ "مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چینی کمپنی سائنو فارم کی جانب سے 5 لاکھ ویکسین ڈوزز کے علاوہ آسٹرازینیکا کی ویکسین کی تقریباً 70 لاکھ خوراکیں رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں مل جائیں گی، اور عوام کو مفت فراہم کی جائیں گی”

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا ٹوئٹر پر جاری اپنے ٹویٹ میں مزید بتانا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی ویکسین کی ویکسینیشن کا عمل اگلے ہفتے سے شروع ہو جائے گا اور اس کا آغاز فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز سے ہو گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >