حکومتی درخواست مسترد، نجی کمپنی کو کرونا ویکسین فروخت کرنیکی اجازت مل گئی

سندھ ہائی کورٹ نے نجی کمپنی کو روسی ساختہ کورونا ویکسین فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویکسین کی فروخت کو ایک ہفتے کیلئے روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جسے عدالت نے مسترد کردیا ہے۔

عدالت نے روسی کورونا ویکسین اسپوٹنگ فائیو کی فروخت سے متعلق تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی فروخت روکنا مفاد عامہ میں نہیں ہے۔

دوران سماعت نجی کمپنی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے روسی کمپنی سے 20 لاکھ ڈوزز کا معاہدہ کیا ہے جس میں سے50 ہزار ویکسین منگوا بھی چکے ہیں، جب ہم نے معاہدہ کیا اس وقت حکومت نے ویکسین کی قیمت کا تعین نہیں کیا تھا، بعد میں مقرر کیے گئے نرخوں کا اطلاق اس ویکسین پر نہیں ہوتا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقامی سطح پر ویکسین کی قیمت 12226 روپے مقرر کی ہے، مارکیٹ میں دستیاب ویکسین کی قیمتوں کی تفصیلات عدالت میں جلد پیش کردیں گے۔

عدالت نے ڈرگ ریگولیٹر ی اتھارٹی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کورونا کی تیسری لہر کا شکار ہوچکا ہے حکومت اب تک کیا کررہی تھی کہ قیمتوں کو تعین نہیں ہوسکا؟

جس پر ڈریپ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک ہفتے کیلئے کمپنی کو ویکسین کی فروخت سے روک دیں ہم قیمتوں کا تعین کردیں گے۔

عدالت نے ڈریپ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو ویکسین فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے، تاہم ابھی مقدمہ کی سماعت جاری ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >