بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت پیش آ سکتی ہے:ڈاکٹر فیصل

نجی ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن لگاتے وقت ہمیں کئی عوامل کو دیکھنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مثبت کیسز، اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش اور آکسیجن کی فراہمی کی صورتحال کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور اب ان عوامل کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان پیدا ہوچکا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن لگا دیا جائے۔

ڈاکٹرفیصل سلطان نے کہا لاک ڈاؤن سے بھی زیادہ اہم قوانین پر عملدرآمد ہے اور اس کے ساتھ ہی انتظامی معاملات کوسخت کرنے کی بھی ضرورت ہے مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس احتیاطی عمل میں عوام کا تعاون بھی شامل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا کی موجودہ لہر کے دوران پہلی اور دوسری لہر کی نسبت طبی عملے میں کیسز کم ہیں۔

معاون خصوصی صحت نے بتایا کہ اس وقت ملک میں کرونا وائرس کی بھارتی اور افریقی اقسام کے کیسز نہیں ہیں۔ فی الوقت ایس اوپیز کے تحت بچوں کے امتحانات لیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ پر بیرون ممالک سے آنے والوں کے ٹیسٹ سے متعلق معاملے پر جمعرات کو غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سربراہ این سی او سی بھی کہہ چکے ہیں کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کل جمعے کے روز نئی پابندیوں سے متعلق اعلان کیا جا سکتا ہے۔

  • یہ حکومت خدا کی قسم انتہائی نالائقوں کی ہے۔ اپنی غلط پالیسیز اور سیاسی کاروائیوں کے لئے اسکول بار بار بند کیے گئے بلا کسی وجہ کرونا کا بار بار بہانہ کرکے۔ خدا کی قسم پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ بھوکوں مر رہے ہیں۔ گورنمنٹ اساتذہ کو کوئی پریشانی نہیں کیونکہ ان کی تنخواہ لگی بنی ہے۔ خدا جانتا ہے جو لوگ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ سکولوں
    نے پڑھایا نہیں لیکن فیسیں پوری لیں۔ خدا کی قسم ان میں سے 90 فیصد جھوٹے ہیں۔ لوگوں نے نہ پچھلے سال فیسیں دیں نہ اب دے رہے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >