کورونا کا قہر ، بھارت کا ہیلتھ سسٹم جواب دے گیا

بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ اور اسے قابو کرنے میں حکومت ناکام ہو گئی ہے جس کے باعث ملک کا نظام صحت بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کا نظام صحت کورونا کی شدید لہر کے آگے ناکام ہو گیا۔ ملک کا صحت کا نظام ناکام ہوگیا، اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے جگہ کم پڑ گئی، لوگ آکسیجن کی عدم فراہمی پر جان سے جانے لگے۔

ملک کی موجودہ صورتحال پر بھارتی عدالت نے مودی سرکار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آکسیجن کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم جاری کر دیا۔

بھارت میں گذشتہ روز تین لاکھ پندرہ ہزار کورونا مریضوں رپورٹ ہونے کے بعد دنیا بھر میں اب تک کے سب سے زیادہ یومیہ کیسز کا ریکارڈ بن گیا۔

گزشتہ روز بھارت میں 3 لاکھ 32 ہزار 503 کرونا کیسز سامنے آئے جبکہ گزشتہ روز ہی 2256 افراد کی کرونا سے ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ بھارت میں 186,928 افراد زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں تیزی سے پھیلتی وبا اور جانی نقصان پر چین نے مدد کی پیش کش کی ہے۔ ترجمان ‏وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت کو تیزی سے پھیلنے والی وبا سے بچانے کے لیے ضرورت وسائل اور ‏معاونت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں حالیہ سنگین صورتحال اور انسداد کورونا کے وسائل کی عارضی کمی ‏کو چین مسلسل دیکھ رہا ہے ہم چین کی معاونت اور مدد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

بی بی سی ساؤتھ ایشیاء کے بیورو چیف نکولا کریم نے بھارت میں کورونا وائرس کی صورتحال پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کووڈ۔19 نے اس ملک کو ایک اپنی سرکشی کا نشانہ بنایا ہے جو پہلے نہیں دیکھا تھا … لیکن غیر متوقع بھی نہیں "۔ انتباہ – یہ انتہائی پریشان کن لیکن ضروری رپورٹ ہے دہلی میں انسانی تباہی کے بارے میں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >