مودی سرکار نے پاکستان سے آکسیجن منگوانے کی درخواست مسترد کردی

بھارت میں کورونا کے بدترین عفریت کے باعث انسانی ہلاکتوں کی تعداد بتدریج بڑھتی جا رہی ہے لیکن مودی سرکاری کی ہٹ دھرمی برقرار ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان کی جانب سےادویات اور وینٹیلیٹر سمیت دوسری متعلقہ چیزوں کی پیشکش پر مودی حکومت نے کوئی جواب دینے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔

ایک طرف کرونا سے متاثرہ بھارتیوں کی اکثریت آکسیجن نہ ملنے پر موت کا شکار ہورہی ہے تو دوسری طرف مودی سرکار نے پاکستان سے آکسیجن درآمد کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے صوبے میں ہونے والی اموات کے پیش نظر مرکزی حکومت کو پاکستان سے آکسیجن سپلائی کی درخواست کی تھی جسے آر ایس ایس کے نظریے کی پیروکار مودی حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کافی دباؤ ڈالا ہے اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط بھی لکھے ہیں جن میں بتایا ہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں یومیہ 7500 سے زائد کورونا کیس سامنے آ رہے ہیں جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں۔

صوبے میں 10 ہزار سے زائد ایکٹوکیسز کی موجودگی پر وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے بھارتی پنجاب کو اس کے حصے کی آکسیجن نہیں ملی اور اب اس کی صورتحال زیادہ تسلی بخش بھی نہیں اس لیے بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان سے آکسیجن درآمد کر لے کیونکہ پاکستان بھی اس کے لیے تیار ہے۔

بھارتی صحافی سدھارتھ نے بھی کہا کہ اگر پاکستان سے آکسیجن خرید کر واہگہ کے راستے بھارت میں لاکر پنجاب کے لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں تو مودی حکومت کو مسئلہ کیا ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی کو چاہیے کہ وہ انسانی جانوں کو اپنے جھوٹی انا پر ترجیح دیں۔

بھارتی پنجاب میں کانگریس کے سربراہ سنیل جھاکر نے بھی تصدیق کی کہ وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کی جانب سے پاکستان سے آکسیجن درآمد کرنے کی تجویز میں سب سے بڑی رکاوٹ مودی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن کی کمی سے اگر کوئی جان جاتی ہے تو اس کا ذمہ دار مرکزی حکومت کو قرار دیا جانا چاہیے۔

سنیل جھاکر نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں اپنے ہمسایہ بالخصوص پاکستان سے ملنے والی ہر امداد کو قبول کرنا چاہیے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک خاص آکسیج کوریڈور بنانا چاہیے کیونکہ یہاں امرتسر سے لاہور صرف50 کلومیٹر دور ہے اور واہگہ کے راستے بروقت طبی امداد مل سکتی ہے۔

  • Aur choppo haha aisy waqt mai mulko k halaat behter hoty hai lakin yai indian nahi sudhry gy… Pakistan ko apni demands sy bilkul pechy nahi jayna chahyai kashmirio ko b mara ja hai yaha taras khanay ki zaroorat nahi

  • Pakistan’s offer can backfire as our own Oxygen production is running at 90% demand. Pakistan needs to import more Oxygen and some more cryogenic tanks, only then can we help Eastern Punjab.

  • No wonder why he is call butcher doesn’t care people’s love ones dies,I believe what it happened in India bcz of brutality in Kashmir and people of India should stand with them,.actually he is the threat for the region not COVID,it’s time to people’s opens ur eyes,he love to see hates,killing innocents people,more poverty nothing comes out good from him, he is shaitan

  • Good decision. We are in need of spare oxygen in event of rise in cases. Indians are a proud nation unlike us. They would prefer to die rather than accept aid from an enemy


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >