وزارت صحت نے 40 سال سے کم عمر افراد کو ایسٹرازینکا ویکسین لگانے سے کیوں روکا؟

وزارت صحت نے 40 سال سے کم عمر افراد کو  ایسٹرازینکا ویکسین لگانے سے کیوں روکا؟

40 سال سے کم عمر مرد و خواتین کو آکسفورڈ کی تیار کردہ ایسٹرا زینکا ویکسین لگانے سے روک دیا گیا، اس سلسلے میں برطانوی محکمہ صحت نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیارکردہ کورونا ویکسین سے متعلق نئی ہدایات بھی جاری کردیں۔

برطانوی محکمہ صحت کی ویکسی نیشن کمیٹی نے نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے 40 سال سے کم عمر مرد اور خواتین کو ایسٹرا زینکا ویکسین لگانے سے روک دیا ہے، جب کہ اس سے پہلے 40 سال سے کم عمر کی صرف خواتین کو ایسٹرازینکا ویکسین نہ لگانے کی گائیڈلائن جاری کی گئی تھیں۔ اس حوالے سے پاکستانی وزارت صحت نے بھی آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پابندی کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

تاہم اب 40 سال سے کم عمر مردوں کوبھی ایسٹرازینکا ویکسین لگانے سے روک دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ویکسی نیشن کے بعد متعدد افراد میں خون کے لوتھڑے بننے کی شکایات سامنے آنے کے بعد یہ ویکسین لگانے سے منع کیا گیا ہے اور 40 سے کم عمر افراد کو امریکی کمپنیوں فائزر اور موڈرنا کی ویکسین لگانے کی ہدایت کردی گئی۔

دوسری طرف ایسٹرازینکا کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ بھی پاکستان پہنچ گئی ہے، جو کہ کوویکس کی فراہم کردہ مفت کورونا ویکسین ہے۔ 12 لاکھ 38 ہزار کورونا ویکسین ڈوزز غیر ملکی ایئرلائن سے پاکستان پہنچائی گئیں تھیں، وزارت صحت کے مطابق کوویکس کی فراہم کردہ کورونا ویکسین جنوبی کوریا کی تیارکردہ ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کورونا وائرس سے متعلق عالمی اتحاد کوویکس کا رکن ملک ہے اور اس اتحاد یعنی کوویکس کے زیر انتظام پاکستان کی 20 فیصد آبادی کو مفت ویکسین فراہم کی جائے گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>