سعودی حکومت کی ملک میں داخلے کیلئے عائد شرط نے پاکستانیوں کو مشکل میں ڈال دیا

سعودی حکومت نے ملک میں داخلے کیلئے بڑی شرط عائد کر دی

جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن سعودی عرب نے پاکستان کو امتحان میں ڈال دیا ہے سعودی عرب کی (جی اے سی اے) نے ٹریول پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کون کونسی ویکسین لگوانے والوں کو سعودی عرب داخلے کی اجازت ہے۔

حج و عمرہ سمیت کسی بھی غرض سے پاکستان سے سعودی عرب جانے والے مشکل کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کو لگنے والی چینی ویکسین سعودی اتھارٹی کی لسٹ میں موجود ہی نہیں۔

نجی ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے چینی ویکسین کو سعودی عرب کیلئے سفر کرنے والے ویکسین سرٹیفیکٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق سعودی عرب میں داخل ہونے کے لئے کورونا کی صرف چار ویکسین سرٹیفکیٹ ہی قابل قبول ہوں گے۔

جی اے سی اے کی فہرست میں جو ویکسین لگوانے والوں کو سعودی عرب میں داخلے کی اجازت ہے ان میں فائزر، ایسٹرازینکا، موڈرنا اور جے اینڈ جے (جانسن) سرٹیفکیٹس کے حامل افراد شامل ہیں۔

کسی مذہبی فریضے یا کام کے سلسلے میں سعودی عرب جانے کے خواہش مند افراد کو چینی ویکسین لگوانے کے باوجود فائزر، ایسٹرازینکا، موڈرنا اور جے اینڈ جے میں سے کسی کمپنی کی ویکسین لگوانا ہو گی۔ جس کے بعد ہی ان لوگوں کو سعودی عرب میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

پاکستان میں چینی ویکیسن سائنو فارم، سائنوویک، کین بائیو سائنو حکومتی سطح پر لگائی جا رہی ہے جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے آج سے پاکستان میں ایسٹرازینکا ویکیسن شروع کی جا رہی ہے تاہم چینی ویکسینیڈ افراد کے لئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

پاکستانیوں کیلئے بڑی مشکل اور حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ چینی ویکسین کے بعد پاکستان میں دستیاب ایسٹرا زینکا کے حوالے سے برطانوی محکمہ صحت خبردار کر چکا ہے کہ اسے 40 سال سے کم عمر لوگوں کو مت لگایا جائے کیونکہ اس سے خون میں لوتھڑے جمنے کی شکایت سامنے آئی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >