کراچی میں لاک ڈاؤن: تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی آمنے سامنے

کراچی میں لاک ڈاؤن: تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی آمنے سامنے

کراچی میں کرونا کے باعث لاک ڈاؤن پر سندھ حکومت تنقید کی زد میں ہے ۔ کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے پر جہاں تاجر سندھ حکومت پر سیخ پا ہیں وہیں تحریک انصاف اور ایم کیوایم کے رہنما بھی سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس پر ردعمل دیا کہ سندھ حکومت کے اقدامات سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، وفاق کی پالیسی کے خلاف سندھ حکومت کے اقدامات سے صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے، لوگوں کا روزگار متاثر ہورہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب معیشت اوپر جارہی تھی لاک ڈاؤن کردیا گیا جو مناسب بات نہیں۔

فواد چوہدری نے مطالبہ کیا جن صنعتوں میں 100 فیصد ویکسی نیشن ہوگئی ہے، انہیں کھول دیا جائے۔ وفاقی پالیسی کے خلاف یک طرفہ صنعتیں بند کرنے سے صورتِ حال خراب ہو گی۔

وزیراطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں لاک ڈاؤن سے معیشت کو نقصان ہو گا، بے روزگاری بڑھے گی اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن کر کے یہ اپنا نقصان خود کریں گے، عمران خان کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو ساری دنیا نے سراہا ہے، عمران خان کے اقدام کو کاپی کریں تو کوئی ہرج نہیں۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی میں لاک ڈاؤن سے ملکی معاشی شہ رگ بند کرنا چاہتی ہے۔یہ سازش ہے جو حکومت اور پولیس کی بھتہ خوری کیلئے لگایا گیا ہے، کراچی سے ملک بھر میں معیشت کا پہیہ چل رہاہے، ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن ملک میں کئی مہینے پیچھے لے جاتاہے۔

حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ صرف ڈاکٹرز کے کہنے پر اور مال پانی اکٹھا کرنے کیلئے کراچی میں لاک ڈاؤن لگایا گیا، حالانکہ صرف متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جاسکتا تھا، کیونکہ شہر کے مختلف علاقوں میں کورونا کے پھیلاؤ کی شرح مختلف ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما و سینیٹر فیصل سبزواری نے سندھ میں لگائے جانے والے لاک ڈاؤن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ 8 دن لاک ڈاؤن کرکے کورونا وائرس کو روکا کیسے جائے گا؟

فیصل سبزواری کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں جتنی بھی ویکسین لگی ہے سب کی سب وفاق نے فراہم کی ہے، سندھ حکومت نے اپنے پیسے سے کوئی ویکسین نہیں لگائی۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ بیرون ملک سے 40 مسافر کراچی آئے جن میں ڈیلٹا ویرینٹ پایا گیا، وہ ایئرپورٹ سے چلے گئے اور سندھ حکومت کو نہیں معلوم کہ وہ مسافر کہاں گئے۔

رہنما پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خرم شیر زمان کا کہنا ہے سندھ میں سیاسی لاک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہیں، صوبائی حکومت کراچی سےانتقام لےرہی ہے تاکہ وفاق پر بات آئے۔

خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کراچی کی اسٹیک ہولڈر ہے، اس سے مشاورت کرنی چاہئے تھی۔ معاملات کو بہتری کی طرف لے کر جائیں مگر آپ انتقام لے رہے ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وفاقی وزراء اور ایم کیوایم رہنماؤں کو جواب دیا کہ وفاقی وزراء غلط بیانی کررہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے اسدعمر اور ڈاکٹر فیصل سلطان سے بات تھی اسکے باوجود وزراء غلط بیانی کررہے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کےترجمان نےاعتراض کردیا، بزدار صاحب نےلاہورمیں سخت لاک ڈاؤن لگایا تو ہم نے تنقید نہیں کی۔ نکتہ چینی کرنیوالے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بتایا نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھنے والے کراچی کے زمینی حقائق کو نہیں سمجھتے۔ سندھ حکومت ہرممکن کوشش کرتی ہے کہ وفاقی حکومت سےرابطہ کرے۔

  • Sind Government must consider the weak economic condition of the country , Karachi is the Business HUB and Present Govt. must consider to end the lockdown situation . Off-course the areas which are effected with the virus can be lockdown


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >