سائنوویک ویکسین کا فائزر اور ایسٹرازینیکا سے موازنہ، کونسی ویکسین زیادہ موثر؟

پاکستان میں اس وقت عالمی وبا کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سائنو ویک کی تیار کردہ کورونا ویک ویکسین کا استعمال کافی زیادہ ہورہا ہے اس ویکسین کی بیماری کی روک تھام کے حوالے سے اب تک حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی ڈیٹا جاری نہیں ہوا تاہم لاطینی امریکا کے ملک چلی نے سائنو ویک کی تیار کردہ ویکسین کی افادیت کا موازنہ فائزر اور ایسٹرا زینیکا کی ویکسین سے کیا ہے جس کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔

چلی کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق سائنو ویک کی ویکسین حقیقی زندگی میں علامات والی بیماری سے تحفظ فراہم کرنے میں 58.5 فیصد تک مؤثر ہے۔ اس کے مقابلے میں فائزر ویکسین 87.7 فیصد اور ایسٹرا زینیکا ویکسین 68.7 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی۔

چلی کی جانب سے مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق سائنو ویک ویکسین فروری سے جولائی کے دوران اسپتال میں داخلے کی روک تھام میں 86 فیصد، آئی سی یو میں داخلے سے بچانے میں 89.7 فیصد اور اموات سے تحفظ میں 86 فیصد مؤثر ثابت ہوئی۔

مزید کہا گیا ہے کہ سائنو ویک کی تیار کردہ کورونا ویک کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کو بیماری سے 66 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔ اس کے مقابلے میں فائزر ویکسینیشن مکمل کرانے والے افراد کو 93 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔

چلی حکومت نے فائزر اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز کی افادیت کا ڈیٹا بھی جاری کیا۔ جس کے مطابق فائزر ویکسین علامات والی بیماری سے تحفظ دینے میں 87.7 فیصد، آئی سی یو میں داخلے سے بچانے میں 98 فیصد اور اموات کی روک تھام میں 100 فیصد تک مؤثر ہے۔

اسی طرح ایسٹرا زینیکا ویکسین علامات والی بیماری سے بچانے میں 68.7 فیصد، آئی سی یو میں داخلے سے بچانے میں 98 فیصد اور اموات کی روک تھام میں 100 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >