مفت برگرسے انکار پر ریسٹورنٹ ملازمین کوگرفتار کرنیوالا تھانیدارساتھیوں سمیت معطل

لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں ‘مفت برگر دینے سے انکار’ پر ریسٹورنٹ کے ملازمین کو ہراساں اور غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے کے الزام میں ایس ایچ او سمیت پولیس کے کم از کم نو اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔

پولیس گردی کا یہ واقعہ سامنے آگیا، نجی ریسٹورنٹ مالک نے مفت کھانا دینے سے انکار کیا تو ایس ایچ او نے سولہ ملازمین کو حراست میں لے لیا،ریسٹورنٹ کے 19 ملازمین کو حراست میں لینے والا ایس ایچ او ڈیفنس سی معطل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل کچھ پولیس افسران نے ڈی ایچ اے فیز 6 میں واقع کھانے پینے کے ریسٹورنٹ ‘جونی اینڈ جگنو کا دورہ کیا اور مفت برگر حاصل کرنے کی کوشش کی ملازمین کے مفت برگر دینے سے انکار پر پولیس اہلکاروں نے ریسٹورنٹ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور جمعہ کی رات ہی ریسٹورنٹ کے پورے عملے کو ناجائز جگہ پر آؤٹ لیٹ قائم کرنے کا الزام لگاکر گرفتار کرلیا۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کو واقعہ کی اطلاع ملی تو تو انہوں نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او ڈیفنس سی حماد اختر کو معطل کردیا،جب کہ اس کے ساتھ ملوث تھانے کا عملہ بھی معطل کردیا گیا۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں،واقعہ میں ملوث تمام اہلکاروں کو سزا دی جائے گی،آئی جی پنجاب اس سے قبل بھی پولیس گردی کے واقعات کیخلاف سخت ایکشن لے چکے ہیں۔

ریسٹورنٹ نے اپنے فیس بک پیج پر واقعہ کی تفصیل شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ہمارے ریسٹورنٹ میں ہماری کچن کی ٹیموں کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہو لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ یہ آخری موقع ہوگا، کل رات تقریباً 1 بجے کے بعد ہماری سٹاف کو پولیس نے تحویل میں لے لیا تھا۔

ریسٹورنٹ نے مزید بتایا کہ ہمارے عملے کے 19 بے گناہ اراکین کو ایس ایچ او کے احکامات کے مطابق بغیر کسی وجہ کے پوری رات پولیس اسٹیشن میں بند رکھا گیا۔

بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے مفت کھانے کا مطالبہ کرنا ایک ‘معمول کی بات’ ہو گئی تھی اور جب ریسٹورنٹ کے عملے نے انکار کردیا تو پولیس افسران نے ہمارے منیجرز کو دھمکی دی اور وہاں سے چلے گئے۔

جونی اینڈ جگنو نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اگلے دن ہی واپس آ کر ہماری ٹیموں کو ہراساں کیا اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ریسٹورنٹ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے اور ہمارے سٹاف کو گرفتار کرکے لے گئے جنہیں انہوں نے 7 گھنٹوں تک حوالات میں بند رکھا، انہیں ہراساں کیا ۔

  • Pakistan and its people been played by these crooks servants as they know maximum will be transferred rather than expel. If we need progressive Pakistan zero tolerance should be in placed in Gov institutions.

  • پھر کہتے ہیں پولیس پر اعتماد کرو پاکستانی پولیس سدھر نہیں سکتی چاہیے ایک لاکھ عمران خان ہی کیوں نہ آ جائیں

  • DHA Lahore Y Block Phase 3, Ice Food per Police walon nay har waqt ka tamasha machaya howa hay, ek police wala jta hay dosra khanay aa jata hay corona or lock down ki arrh main sahi black mail kia ja rha hay.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >