ارشد پپو کے کٹے سر سے فٹبال کھیلا، عزیر بلوچ کے اقبالی بیان میں ہولناک انکشافات

کراچی، انسداد دہشت گردی عدالت میں کالعدم جماعت کے سربراہ عزیر بلوچ نے رینجرز اہلکاروں کے قتل سے متعلق کیس میں اقبالی بیان دیا جس میں ہولناک انکشافات کیے۔

عزیر بلوچ نے اعترافی بیان میں کہا کہ کراچی پولیس کے افسران یوسف بلوچ، جاوید بلوچ اور چاند نیازی کی مدد سے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا، ان تینوں کے سر تن سے جدا کر کے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا۔

عزیر بلوچ نے مزید کہا کہ اس کے بعد دہشت پھیلانے کے لیے لاشوں کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ کی مدد سے وائرل کر دی۔ 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی، 2008 میں پیپلز پارٹی کے فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلزپارٹی کے قیدیوں کا ذمہ دار بنایا گیا۔

لیاری گینگ وار کے سرغنہ اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ لیاری میں اپنی مرضی کے پولیس افسران اور اہلکار تعینات کرائے، پولیس افسران کو ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ کے ذریعے تعینات کرایا۔

عزیر بلوچ نے کہا کہ ان پولیس افسران کی سرپرستی میں لیاری میں جرائم کیے، مارچ 2013 میں اپنے والد فیض محمد عرف فیضو کے قتل کا بدلہ بھی لیا۔

عزیر بلوچ نے کہا یہ بھی کہا کہ 2008 میں رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی مکمل کمان سنبھالی، اسی سال پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح گروہ بنایا، 2008 سے 2013 تک کوئٹہ اور پشین سے اسلحہ منگوایا، جس سے شہر میں اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری کی اور سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنایا۔

عدالت نے عزیر بلوچ کے اس اقبالی بیان کو کیس کا حصہ بنا دیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عزیر بلوچ اپنے 164 کے بیان سے کمرہ عدالت میں منحرف بھی ہو چکا ہے۔ یہی نہیں ناقص تفتیش کے نتیجے میں عدالت عزیر بلوچ کی کئی مقدمات میں بریت بھی ہو چکی ہے۔

ملزم پر گینگ وار کے 61 مقدمات درج ہیں جن میں سے 11 میں بری کیا جا چکا ہے۔

2012 میں کلری تھانے پر حملے کے مقدمے میں کراچی کی سیشن عدالت نے بری کرتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ ٹھوس شواہد دینے میں ناکام رہا ، شواہد کی عدم دستیابی پر عزیر بلوچ کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

  • ملزم کے اقبالی بیان اور ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزم پیپلز پارٹی سمیت بے گناہ ثابت ہوگیا ہے۔ اسے اگلے الیکشن سے پہلے بری کیا جائے۔

  • ایسی بہت سارا بکواس ہم پچھلے 5 سالوں سے سن رہے ہیں لیکن جیسے ہی عدالتوں میں کیس جاتا ہے ایسے بیانات سے انکار کر دیا جاتا ہے اور بندہ بری ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >