اوورسیز خاتون کی زمین پر قبضے کی سٹیزن پورٹل پر شکایت،وزیراعظم کا نوٹس،زمین واگزار

اوورسیز خاتون کی زمین پر قبضے کی سٹیزن پورٹل پر شکایت،وزیراعظم کا نوٹس،زمین واگزار

وزیر اعظم آفس کے مطابق مری میں امریکی نژاد اوورسیز پاکستانی خاتون کی زمین پرقبضہ ہوا، اوورسیز پاکستانی خاتون کی شکایت پر وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا اور وزیراعظم آفس میں قائم سٹیزن پورٹل کے ذریعے فوری طور پر خاتون سے رابطہ کیا گیا، وزیراعظم کےنوٹس پرمقامی انتظامیہ کی بھی دوڑیں لگ گئیں۔

وزیراعظم آفس کے مطابق قابضین سے خاتون کی زمین واگزار کرائی گئی۔ قبضہ کرنے والےافراد حکومتی شخصیت کے قریبی رشتہ دارہیں جبکہ حکومتی شخصیت نے معاملےسے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اکتیس مئی کو آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ کے لائیو سیشن میں ایک بیوہ خاتون نے اپنے گھر پر قبضے کی شکایت کی تھی، جس پر وزیراعظم نے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت کی۔ ایک روز کے اندر اندر بیوہ خاتون کو انصاف ملا اور خاتون کا گھر قبضہ مافیا سے واگزار کرایا گیا تھا۔

اس واقعہ سے متعلق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے عائشہ نامی خاتون کو فوری انصاف فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ جبکہ پولیس کے مطابق ڈیفنس میں بیوہ خاتون کے گھر پہلے ہی واگزار کروا دیا گیا تھا تاہم کرایہ دار عمران اصغر بقیہ واجبات نہیں کررہا تھا۔

سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے عائشہ بی بی کے بقایا جات چار لاکھ 72 ہزار روپے بھی واپس دلوائے، حالیہ واقعہ میں متاثرہ خاتون نے قبضہ چھڑوانے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس قبضہ مافیا گروپ نے مری میں 40 سے زائد مختلف لوگوں کی اراضیوں پر قبضہ کر رکھا ہے تمام لوگوں کی زمینیں واگزار کراکے سب کو شکریہ کا موقع دیا جائے۔

    • Executive order is effective only if executive is honest. In most cases the police concedes that some party has illegally taken qabza or illegal possession of a piece of property whose ownership is to be determined by courts. The organized qabza mafia then delays the verdict over tens of years by simply paying reader of the judge for next dates. However, if judge wants he can still decide within couple of months. If govt put limits on the maximum length of a civil or criminal case then this complicity between judge police and the lawyer can be broken.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >