اسلام آباد:قائداعظم کی یادگار کےسامنے نیم برہنہ فوٹوشوٹ کرنے والے جوڑے پر مقدمہ درج

اسلام آباد میں واقع ایکسپریس وے نامی مصروف ترین شاہراہ پر یادگار قائد کے سامنے غیر مناسب (نیم عریاں) فوٹوشوٹ کرنے والے ماڈل لڑکے اور لڑکی کے خلاف شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق لڑکے اور لڑکی نے قائداعظم کی یادگار کے سامنے غیر اخلاقی تصاویر بنوائیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ کورال میں شہری نے جوڑے کے خلاف درخواست جمع کرائی جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہےکہ ایک لڑکے اور لڑکی نے قائد اعظم کے پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی تصاویر بنوائی ہیں اور پھر ان کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں ایک لڑکے اور لڑکی کو ایکسپریس وے پر موجود قائد اعظم کے پورٹریٹ کے سامنے دکھایا گیا تھا جنہوں نے نیم عریاں لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ اس تصویر کے وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے دونوں کےخلاف کارروائی کرتے ہوئے گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

اس حوالے سے سینئر صحافی انصار عباسی نے ٹوئٹر پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کو ٹیگ کرتے ہوئے جوڑے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی ٹوئٹ کے جواب میں ڈپٹی کمشنر آفس نے بھی عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کو بھی اس حوالے سے مزید معلومات ہوں تو وہ آگاہ کریں۔

اس صارف نے کہا کہ تف ہے ایسی پاکستانی فیشن انڈسٹری پر جسے یہ نہیں پتہ کہ ایسے کپڑے پہنے کبھی کسی کو نہیں دیکھا گیا۔ اس صارف نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد کو چاہیے کہ قومی یادگاروں کے تقدس کے پیش نظر کچھ ایس او پیز بنائیں۔

ابوبکر نامی صارف نے ان دونوں ماڈلز کے ایک پرانے شوٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان میں جو ماڈل لڑکا ہے اس کا نام زلفی ہے جبکہ لڑکی کا یوٹیوب چینل میسٹیکل شایان کے نام سے ہے ان کے یوٹیوب چینلز کی مدد سے ان کو ٹریس آؤٹ کیا جائے۔

لاجگ سپیشی نے کہا کہ ایمان کو ننگا کر دیا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ اسلام آباد میں ہو رہا ہے اس صارف نے کہا کہ یہ کہیں بھی ہو سکتا ہے مگر اسلام آباد نہیں کیونکہ یہ تو پھر بربادآباد بن گیا ہے۔

صحافی پارس جہانزیب نے کہا کہ کبھی کوئی مزار قائد تو کوئی ائیر فورس کی یادگارِ شہدا پر ناچ رہا ہوتا ہے اور اب اسلام آباد میں قائدِ اعظم مانومنٹ کے سامنے ایسے انداز، آخر ایسی حرکات سے یہ لوگ کیا دکھانا اور ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

گل شیر نے کہا کہ پبلک پوائنٹ پر ایسے کپڑے نہیں پہننے چاہییں، اسلام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ ان کے عقب میں ایمان کے الفاظ قائد کے مجسمے کے ساتھ دکھائے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کا ایمان اسی طرح کا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >