لاہور، گجرپورہ میں 2 لڑکیوں سے زیادتی کا کیس، تفتیش نے نیا رُخ اختیار کر لیا

لاہور کے علاقے گجرپورہ میں 2 لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ گزشتہ روز اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ایک مقدمہ درج کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2 خواتین کو شاہدرہ سے اغوا کر کے گجرپورہ لیجا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا جس کے بیان نے تفتیش کا رُخ ہی بدل دیا ہے۔ گرفتار ملزم کے بیان کے مطابق دونوں لڑکیاں پارٹیز پر ڈانس کرتی ہیں ان کو کسی پرائیویٹ تقریب کیلئے بطور ڈانسر بک کیا گیا تھا۔

ملزم ندیم نے کہا کہ اس کے کزن عرفان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی، اس خوشی میں ایک پارٹی کا منصوبہ بنایا گیا۔ عرفان نے اپنے دیگر5 دوستوں کو بھی اس پارٹی پر مدعو کیا۔ اس پارٹی میں ڈانس کیلئے دونوں لڑکیوں کو 15 ہزار روپے میں بک کیا گیا تھا۔

ملزم کے مطابق لڑکیوں کو رات 2 بجے واپس شاہدرہ ڈراپ کرنے کی بات کی گئی تھی مگر ان کو صبح 7 بجے واپس چھوڑا گیا، اضافی وقت کیلئے ان کو پورے پیسے نہ دینے پر دونوں لڑکیوں نے زیادتی کا الزام لگا دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز گجرپورہ میں مبینہ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تھا جس میں لڑکیوں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں شاہدرہ سے اغوا کر کے گجرپورہ لیجایا گیا جہاں ان سے کرول کھاٹی فیکٹری میں اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔

لڑکیوں کا دعویٰ تھا کہ انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم فرار ہو گئے ہیں تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری کے مالک ندیم کو گرفتار کر لیا تھا۔

  • لڑکیوں کی شکایت پر کاروای کرنی چاہئے اور انکو گرفتار کرکے سخت سزا دی جاے ۔ یہ بعد کی بات ہے کہ لڑکیاں کون ہیں ار ان سے جسمانی تعلق ثابت ہوجاے تو وہ کونسا جائز ہوگا سزا تو مل کر رہے گی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >