راولپنڈی، طالبہ زیادتی کیس میں پیش رفت،مدرسے کی معلمہ بھی گرفتار

راولپنڈی کے تھانہ پیرودہائی کے علاقے میں مدرسے میں زیر تعلیم 16 سالہ طالبہ کے ساتھ زیادتی کیس میں ملوث معلمہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ملزمہ معلمہ عشرت حنیف 10 روز سے عبوری ضمانت پر تھی، اور اس نے عدالت میں ضمانت میں توسیع کی درخواست دی، تاہم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اعجاز آصف نے ملزمہ کی ضمانت خارج کردی، جس پر عدالت میں موجود خاتون پولیس اہلکاروں نے اسے گرفتار کر لیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ طالبہ سے جبری زیادتی کا معاملہ ہے جس کی تفتیش ضروری ہے۔ درخواست پر سماعت کے دوران متاثرہ طالبہ اور اس کی والدہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق معلمہ عشرت حنیف کا ریمانڈ لیے جانے کا امکان ہے، مرکزی ملزم مہتمم مدرسہ مفتی شاہ نواز پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہے۔

یاد رہے کہ 22اگست کو رپورٹ ہونے والے اس کیس میں بچی کی والدہ نے بیان دیا کہ ہمیں مدرسے سے فون آیا کہ آپ کی بیٹی بے ہوش ہے، بچی کا بھائی طالبہ کو مدرسے سے گھر لایا تو بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مدرسے کا مہتمم طالبہ کو متعد بار ہراساں کرچکا ہے، اور اس روز بھی ایک خاتون استاد بچی کو زبردستی مہتمم کے کمرے میں لے کر گئی جہاں بچی کو نشہ آور چیز پلائی گئی، مہتمم مدرسہ بچی کے ساتھ کیا کرتا رہا ہے اس حوالے سے بچی کو علم نہیں۔

دوسری جانب متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ مہتمم مدرسہ اور خاتون ملزمہ نے زبان کھولنے پر اسکے گھر کو بارود سے اڑانے کی دھمکی دی تھی۔

  • اس حرامی نطفہ شیطان کو اب تک پھانسی پر لٹکادیناچاہئے تھا مگر پولیس نے اتنی دیر بعد مرکزی گواہ اور معاون اس حرامیہ کو گرفتار کیا ہے
    اسی طرح ہوتا رہا تو ریپ کیسز کو کنٹرول کرنا ناممکن ہوجاے گا کیونکہ اب کوی کمزور بندہ ریپ نہیں کرتا مولوی اور طاقتور لوگ کررہے ہیں جیسے ظاہر جعفر نے کیا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >