سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

رپورٹ: ساجد حسین میر

سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

نیلم ویلی کی معشیت کا دارو مدار سیاحت پر ہے۔ اگر نیلم میں سیاحت کو معاشی خوشحالی کا اہم ذریعہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا ۔نیلم کو قدرت نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے ان وسائل میں سے نیلم کے لوگوں نے اپنی معاشی خوشحالی کے لیے نیلم کی خوبصورتی کا انتخاب کیا ۔نیلم کے لوگوں کے خوبصورت رویوں خوش اخلاقی اور بہترین طرز مہمان نوازی نے چند سالوں میں سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

نیلم کی سیاحت نے سارے آزاد کشمیر بالخصوص مظفرآباد ڈویژن کو سیاحتی کاروبار کا مرکز بنا لیا ۔ان سیاحتی سرگرميوں کو دیکھتے ہوئے اہل علاقہ اس کاروبار کی طرف متوجہ ہوئے لوگوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی کے علاوہ قرض لیکر سیاحت میں لگانی شروع کر دی۔دو سالوں میں نیلم میں کم و بیش تقریبا 200 سے زاید گیسٹ ہاؤس ہوٹل اور ریسٹورنٹ سیاحوں کو سہولیات مہیا کرنے لگے۔اس مد میں اربوں کی سرمایہ کاری کی گئی۔

سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

اس کے علاوہ لوگوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی خاطر خواہ سرمایہ لگایا جو سیاحوں کو سفری سہولیات مہیا کرنے کے لیے تھا۔ نیلم ویلی کے بالائی علاقوں اور چوٹیوں تک سیاحوں کی رسائی ممکن بنانے کے لیے سینکڑوں لوگوں نے قیمتی گھوڑے اور خچر خرید کر اپنے لیے روزگار اور سیاحوں کے لیے سفری سہولت کا ذریعہ بنایا۔ سیاحت کے فروغ سے نیلم کے معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوئے۔معاشی خوشحالی کا سفر تیزی سے شروع ہوا خوشحالی کا یہ سفر یہاں کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور کچھ دوسرے اضلاع سے آئے سرمایہ داروں کی مدد سے جاری رکھا۔

اس سفر میں حکومت اور ریاستی ادارے کبھی بھی نیلم کے لوگوں کے معاون نہیں بنے۔ لوگوں نے اپنے وسائل سے بڑھ کر اس شبعے کی بہتری کےلیے اپنا حصہ ڈالا۔ اکثر لوگوں نے اپنے گھروں کو لوکل مارکیٹوں سے ادھار لے کے گیسٹ ہاوس میں تبدیل کیا۔ نیلم ویلی ایک پر رونق علاقہ بن گیا۔یہ سارا سرمایہ  لوگوں کی ساری زندگی  کی جمع پونجی یا ادھار تھا جس سے نیلم کے ہزاروں خاندانوں کو باعزت روزگار میسر آیا۔

سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

پھر ایل او سی پہ بھارتی جارحیت نے نیلم کی رونقوں کو ماند کر دیا۔ نیلم کے باسی اس آس میں اپنا سفر جاری رکھے ہوہے تھے کہ 2020خوشحالی کا سال ہو گا ہر سال کی طرح اس سال بھی اس شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کاروباری سیزن شروع ہونے سے قبل  ہوٹلز کو رینویٹ کرنا شروع کر دیا ۔ٹرانسپورٹر نے مشکل مالی حالات کے باوجود گاڑیوں کو  ضروری کام وغیرہ کروا کے تیار کیا ،مارکیٹ میں لوگوں کو ادائیگیوں کا وقت دیا گیا لیکن اچانک کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نے لوگوں کی معاشی تباہی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

مارچ میں جب لاک ڈاون شروع ہوا تو سب سے پہلے سیاحت اور ہوٹلنگ کا شعبہ متاثر ہوا اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نےمتفقہ فیصلہ کیا کہ اس مشکل وقت میں تمام حکومتی فیصلوں پر من و عن عمل کیا جائےگا  لیکن حکومت وقت نے اس شبعہ کے لوگوں کو مکمل نظر انداز کیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اس شبعہ کے لوگوں کی مشکلات کو سمجھتے اور ان کی طرف بھی توجہ دیتے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سیاحت کے شعبہ کو سنبھالا دیا ہوا ہے لیکن حکومت نے اس شبعہ کی طرف توجہ نہ دی تو یہ کاروبار ختم ہو جائے گا ہزاروں خاندان بے روزگار ہو جائیں گے اربوں  کا سرمایہ ڈوب جائے گا بے روزگاری کا ایسا طوفان آئے گا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جائے گا۔

سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو گیا ہے۔ضلع نیلم گیسٹ ہاوس ایسوسی ایشن کے صدر راجہ افتخار خان  کا کہنا ہے اگر حکومت نےاس طرف  فوراً توجہ نہ دی تو بہت جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اپنے معاشی قتل کے خلاف ہر حد تک جائینگے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے اب ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں لہذا اب بھی وقت ہے حکومت توجہ دے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

راجہ افتخار خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے قرضہ کی سکیم متعارف کروائی ہے جو خوش آئند ہے۔ لیکن اس کی شرائط بہت مشکل رکھی گئی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ نیلم ویلی میں گیسٹ ہاؤس مالکان کے لیے آسان شرائط پر قرضے مہیا کیے جائیں تاکہ لوگ اپنے کاروبار کو سنبھال سکیں۔محکمہ سیاحت کے حوالے سے نیلم کے گیسٹ ہاؤس مالکان کو بہت شکایات ہیں کہ یہ محکمہ سیاحت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہا اور نہ ہی سیاحت سے منسلک لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام کر رہا ہے اگر حالات ایسے ہی رہے تو نیلم میں سیاحت سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روز گار ہو جائیں گے۔

سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

گیسٹ ہاؤس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عمر فاروق نے بتایا کہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے ایس او پیز بنانے کے بعد ان کو سفر کی اجازت مل گی ہے جو کہ ایک اچھا اقدام ہے ہماری گورنمنٹ کو بھی چاہیے کے حکومت پاکستان کے اس اقدام کی پیروی کرتے ہوئے یہاں بھی سیاحوں کو آنے کی اجازت دی جائے ضلعی انتظامیہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ نیلم ویلی میں سیاحت کا پہیہ چل سکے اور لوگ اپنے خاندانوں کا پیٹ پال سکیں۔

سیاحوں کی جنت نیلم ویلی ویران،لاک ڈاؤن نے گیسٹ ہاؤسز مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی

  • جھوٹ اور سچ کومکس نہ کریں

    ب ریلیف کا پیسہ نہیں کہلکڑی ور ٹین سے بنے 200 مکانوں پر اربوں کا کلیم ملے گا

    دوسرا فاٸرنگ میں دماغ خرب ہے کہ ادھر جاٸیں

  • ضروری ایس او پی کے بعد ٹوریسٹ کے اے جے کے میں داخلہ کو کھولا جائے اور اس انڈسٹری سے وابستہ افراد کو خصوصی پیکیج دیا جائے۔جن میں بجلی کے بلوں کی معافی،قرضوں کی فراہمی وغیرہ شامل ہو سکتی ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >