نیپالی کوہ پیماؤں نے سردیوں میں ‘کے ٹو’ سر کر کے تاریخ رقم کر دی
تفصیلات کے مطابق نیپال کے شرپا گروپ نے تاریخ میں پہلی بار موسم سرما کے دوران دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو” کو سر کر لیا ہے، کے ٹو کو سر کرکے نیپال کا شرپا گروپ دنیا کا پہلا کوہ پیماؤں کا گروپ بن گیا ہے جس نے شدید سردی کے موسم نے پہلی بار کے ٹو پر چڑھائی کی ہے۔
خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیپال کا شرپا گروپ کوہ پیمائی کی تاریخ میں موسم سرما کے سرد ترین موسم کے دوران کے ٹو سر کرنیوالا پہلا گروپ بن گیا اس طرح اس گروپ نے عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کوہ پیماؤں نے خون جما دینے والے منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں گزشتہ رات کیمپ تھری میں گزارنے کے بعد مزید آگے بڑھا اور اپنی منزل حاصل کر لی، منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں کے ٹو کو سر کرنا انتہائی ہولناک ہے کیونکہ اس موسم میں برفانی ہواؤں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر پہنچ جاتی ہے۔
Final summit towards K2 pic.twitter.com/hU6bdyFx4K
— Jibran Bloch (@jibranbloch) January 16, 2021
اس سے قبل دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 13 کو موسم سرما میں سر کیا جاچکا ہے اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو وہ واحد چوٹی تھی جو موسم سرما میں اب تک سرنہیں کی گئی تھی۔
مزید کہ کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے 200 میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں کے ٹو کے حالات کوہ پیما کی جان لے سکتے ہیں، جس کی وجہ سے آج تک کسی کوہ پیما نے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالی، لیکن اب نیپال کے کوہ پیماؤں کی شرپا گروپ نے یہ اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔