نیپالی کوہ پیماؤں نے سردیوں میں ‘کے ٹو’ سر کر کے تاریخ رقم کر دی

تاریخ رقم، موسم سرما میں پہلی بار کوہ پیماؤں نے "کے ٹو" سر کر لی 

تفصیلات کے مطابق نیپال کے شرپا گروپ نے تاریخ میں پہلی بار موسم سرما کے دوران دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو” کو سر کر لیا ہے، کے ٹو کو سر کرکے نیپال کا شرپا گروپ دنیا کا پہلا کوہ پیماؤں کا گروپ بن گیا ہے جس نے شدید سردی کے موسم نے پہلی بار کے ٹو پر چڑھائی کی ہے۔

تاریخ رقم، موسم سرما میں پہلی بار کوہ پیماؤں نے "کے ٹو" سر کر لی 

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیپال کا شرپا گروپ کوہ پیمائی کی تاریخ میں موسم سرما کے سرد ترین موسم کے دوران کے ٹو سر کرنیوالا پہلا گروپ بن گیا اس طرح اس گروپ نے عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا ہے۔

تاریخ رقم، موسم سرما میں پہلی بار کوہ پیماؤں نے "کے ٹو" سر کر لی 

رپورٹ کے مطابق کوہ پیماؤں نے خون جما دینے والے منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں گزشتہ رات کیمپ تھری میں گزارنے کے بعد مزید آگے بڑھا اور اپنی منزل حاصل کر لی، منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں کے ٹو کو سر کرنا انتہائی ہولناک ہے کیونکہ اس موسم میں برفانی ہواؤں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر پہنچ جاتی ہے۔

اس سے قبل دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 13 کو موسم سرما میں سر کیا جاچکا ہے اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو وہ واحد چوٹی تھی جو موسم سرما میں اب تک سرنہیں کی گئی تھی۔

تاریخ رقم، موسم سرما میں پہلی بار کوہ پیماؤں نے "کے ٹو" سر کر لی 

مزید کہ کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے 200 میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں کے ٹو کے حالات کوہ پیما کی جان لے سکتے ہیں، جس کی وجہ سے آج تک کسی کوہ پیما نے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالی، لیکن اب نیپال کے کوہ پیماؤں کی شرپا گروپ نے یہ اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔

تاریخ رقم، موسم سرما میں پہلی بار کوہ پیماؤں نے "کے ٹو" سر کر لی 


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>