پاکستان کی ہر دوسری، تیسری اور چوتھی لڑکی کا مسئلہ

بلاگر ، محمد عثمان اعوان

بچپن میں ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ بیٹا اگر تمہاری نظر اتنی تیز ہے کہ وہ عورت کے کپڑے پھاڑ کر اس کے جسم تک جا پہنچتی ہے تو اس نظر کو تھوڑا اور بڑھا کر دیکھو کہ اس کی جلد کے اندر کیا ہے۔ تمہاری جنسی حیوانیت ایک لمحے میں ختم ہو جائے گی۔ ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ یہی جنسی درندگی ہے۔

ایک عورت گھر سے باہر جس کرب اور تکلیف سے گزرتی ہے، اس کا اندازہ ایک مرد کبھی نہیں لگا سکتا۔ گھر سے دفتر یا یونیورسٹی پہنچنے تک عورت جن جن نظروں کو جھیلتی ہے، وہ ان کے مطلب خوب سمجھتی ہے مگر خاموشی سے سر جھکائے، راستے پر نظریں مرکوز رکھے وہ جس خوف اور اضطراب میں اپنی زندگی کا سفر جاری رکھتی ہے، اس کا عکس اس کی اگلی نسلوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے اور اس طرح یہ خوف، کرب اور تکلیف نسل در نسل آگے چلتی ہے اور بدقسمتی سے پچھلی کئی دہائیوں سے یہی چلا آ رہا ہے۔

کچھ دن پہلے لاہور سے ایک محترمہ نے ایک درد بھری کہانی بھیجی جو پڑھ کر دل کو سخت ٹھیس پہنچی اور کافی دیر تک طبیعت ناساز رہی۔ میں ساری کہانی انہی محترمہ کے الفاظ میں آپ تک پہنچاؤں گا تاکہ آپ ان کے الفاظ میں چھپے درد اور تکلیف کو سمجھ سکیں۔

“گزشتہ شب کوئی 9 بجے کے قریب میں اپنی والدہ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جارہی تھی. میں نے خود کو ایک بڑی چادر سے مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا. اپنے گھر سے نکلنے کے بعد ہم لوگ رکشہ کی تلاش میں پیدل گلی سے گزر رہے تھے. میرا گھر چونکہ گلی کے آخر میں ہے تو ہمیں مین سڑک تک پہنچنے کے لئے پوری گلی کو عبور کرنا تھا. میں اپنی والدہ سے باتوں میں مگن تھی.

ہم تقریباً گلی کے آخر پر پہنچنے ہی والے تھے کہ مجھے اپنے عقب سے ایک موٹرسائیکل کی آواز سنائی دی. میں اپنے دھیان میں چل رہی تھی کہ اچانک ایک ہاتھ میری کمر کے نچلے حصے پر آیا اور اگلے کچھ سیکنڈ میں آناً فاناً میرے جسم کو پوری طاقت کے ساتھ دبوچا گیا. شاید اس نے اپنی کلائی کی پوری طاقت ہی لگادی تھی

اور پھر وہ برق رفتاری سے مجھے کراس کرتا ہوا گزر گیا. یہ سب اتنی تیزی سے چند سیکنڈز میں ہوا کہ میرے منہ سے ایک چھوٹی سی سسکی نکلی اور میرا دماغ پوری طرح مفلوج ہوگیا میں اسکی دھندلی سی پشت کو دیکھ رہی تھی بس. پھر اگلے لمحے میں نے بھی اپنے گلے کی پوری طاقت لگائی اور چیخی "اوئے تجھے شرم نہ آئی خدا کرے تو ابھی اسی وقت کسی ٹرک کے نیچے آجائے ”

وہ گلی کے نکڑ پر پہنچ کر موڑ کاٹ رہا تھا. اور میری آنکھ سے بےبسی کا ایک آنسو ٹپکا جسکے ساتھ ہی میری آواز اس گلی کے اندھیرے میں کہیں کھو گئی.ایک اور شخص جو گلی کے نکڑ پر کھڑا غالباً اس سارے واقعے سے محظوظ ہورہا تھا. اس نے میری طرف دیکھا اور پھر ایک گھٹیا سی مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی۔

میں کتنی دیرسے خاموش اور افسردہ ڈاکٹر کے کلینک پر بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوں اور بار بار میری والدہ ایک ہی بات کر رہی ہیں

"!شکر ہے کسی نے دیکھا نہیں ورنہ لوگ کیا کہتے ”

یہ کہانی اس ایک لڑکی کی نہیں ہے، بدقسمتی سے یہ پاکستان کی ہر دوسری، تیسری اور چوتھی لڑکی کی کہانی ہے جس کو پورا دن نجانے کتنی بار ایسے لوگوں کو جھیلنا پڑتا ہے۔ گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہی عورت کا ایک امتحان شروع ہو جاتا ہے، لوگوں کی نظریں اس کے سر سے قدموں تک محاسبہ کرتی نظر آتی ہیں،

اس کی چال دیکھ کر مختلف قسم کے تجزیئے کیے جاتے ہیں، ہر کوئی اپنے تجربے سے بتاتا ہے کہ اس لڑکی کا کردار کیسا ہے، کوئی پاس سے گزرتے ہوئے جملے کستا ہے تو کوئی آنکھوں سے بے ہودہ اشارے کرتا ہے۔ اور یہ سب دیکھتے ہوئے بھی عورت سر جھکائے اپنا سفر جاری رکھتی ہے کیونکہ اگر غلطی سے نظر اٹھ جائے تو اس کی ذات سے کئی من گھڑت کہانیاں منسوب کر دی جاتی ہیں ۔

ان سب مسائل کے باوجود ہمارے ہاں جان بوجھ کر عورت کو اتنا کمزور بنا دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکتی۔ وہ ساری زندگی خاموشی کے ساتھ اذیت برداشت کرتی رہتی ہیں لیکن اگر کچھ غلطی سے زبان پہ آ جائے تو خاندان کی عزت داؤ پہ لگ جاتی ہے۔ یقین مانیے آج اگرہماری عورتیں زبان کھول لیں تو اس معاشرے کے بہت سارے عزت دار لوگوں کی عزتوں کے جنازے نکل جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں عورت کا بولنا جرم سمجھا جاتا ہے۔

یہ ظلم اور جبر تب تک جاری رہے گا جب تک عورت اپنے لیے خود کھڑی نہیں ہو گی۔ اپنی طرف ہر اٹھنے والی گندی نظر کو خود روکنا ہو گا۔ یقین جانیے ہمارے ہاں عورت کی خاموشی اور کم علمی کا فائدہ اٹھا کر ہی اس کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے۔

عورت کو مضبوط کرنے کے لیے ہم مردوں کو ہی پہلا قدم اٹھانا پڑے گا، یاد رکھیے آپ کی ماں، بہن اور بیٹی بھی گھر سے باہر ان سب مسائل کا شکار ہوتی ہے۔ اپنی عورتوں کو اعتماد دیں، ان کو بتائیں کہ آپ کو ان پر مکمل بھروسہ ہے،

اور عزت ان کا ذاتی حق ہے۔ پھر دیکھیے گا عورت کس طرح بے خوف و خطر زندگی کے کسی بھی شعبے میں اپنا نام پیدا کر کے نہ صرف آپ کے خاندان بلکہ پاکستان کا بھی نام روشن کرتی ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ کچھ دن پہلے ہماری میرے اور میرے شوہر کے سامنے رونما ہوا ۔وہ لڑکی اور اس کی والدہ بہت سہم گئی تھیں ۔وہ کوئی گوالہ تھا ۔میرے شوہر نے اس کا پیچھا کیا لیکن وہ بائیک بہت تیزی سے بھگا کر نکل گیا ۔اللہ تعالٰی سب کی بیٹیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

    (1 posts)

    بھائی صاحب آپ نے کُچھ زادہ ہی مبالغہ کر دیا ہے پاکستان میں یہ مسئلہ ہر دوسری لڑکی کے ساتھ بالکل نہیں ہے بلکہ ہزار میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی ایسا بمشکل ہی دیکھنے میں آیا ہے. مہربانی فرما کر پاکستانی کمیونٹی کی غلط ترجماں نہیں کریں.

    (52 posts)

    Har doosree kay saath nahee hay 1000 mein aik hay. Aaj kal tu larrkiyaan mintoon kertee hain koyee charay poer kisee ko fursat nahee. America mein jao jhaan kee yeh loog baree tareef kertay hain, Wahaan dekhna Male police kya kertee hay aur sarak per chaltee larkee ko 100 gunnah Pakistan say zyada seedhay alfaaz mein breast aur hips kee tareef kee jaatee hay aur number zaleeloon kee tarha peechay parh ker manga jaata hay.

    (1 posts)

    May ye ni keh raha ke larkay ne acha kya. Lakin may ye zaror kahonga ke us larkee ke saat agr koi mard hota tho pir us kee jurrat ni tee ke us ko aankh uta kar daik sakay. Es lya Islam may yahee tho kaha hay ke jab gar se niklo tho Namehram ke saat ya shohar ke saat gar se niklo. Aor quraan may ye b kaha gya hay mardo ko ke apnee nazray jhuka ke chalo

    MPA (864 posts)

    Women go for shopping in Bazar to buy any thing but mostly shopkeeper call female buyers ( baji, appa, behn g, Betta g etc) but their eyes are looking their body. And even sales women also facing same kind of behaviour by male shoppers.

    (1 posts)

    عورت لفظ کا مطلب بتائے سب سے پہلے؟ پھر بات کریں عورت کے بِلا شرعی عذر گھر سے باہر نکلنے اور ہر شعبے میں اپنا نام پیدا کرنے پر۔حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ کو جب منع فرمایا تھا کہ اب سے مسجد میں نماز ادا کرنے عورتیں نہیں جایئں گی اور وہ چلی گئ تھی پھر واپس آ کر کیا واقع سنایا تھا انہوں نے، اسے پڑھو پھر کرنا ہمدردی عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کی۔ عقلی باتیں کرنے والو تمہاری عقل کامل ہے یا اصحابِ رسول کی؟؟؟

    (3 posts)

    بھائی اتنے بھی ہمارے معاشرے کے حالات خراب نہیں ہیں۔ جو آپ نے ہر دوسری اور تیسری لڑکی لکھ دیا ہے۔ برائے مھربانی ہاتھ ✋ ہولا رکھیں

    (1 posts)

    بھائی میرے پاکستان کے اتنے برے حالات بھی نہیں ہیں جتنے سنسنی خیز آپ نے بنانے کی کوشش کی ہےدوسرا جب اسلام ہی عورت کو بغیر محرم کے منع کرتا ہے تو پھر کیوں نہیں اسلام کی بات کو مانا جاتا
    اور تیسری بات ایسے کمینوں کی کھال ادھیڑ دینی چاہیے

    (1 posts)

    Mere bhi mene apni 30 Sala umer 1 dafa bhee aisa nahee dekha or ap ne to pore Pakistan ko tharki keh dia Kuch soch samajh ka likha Karo agar houa bhee to lakhon ma kisi 1 k sath hoga. Or wo pori dunia ma hota ha

    (4 posts)

    یہ مسلہ چند آزاد منش، دعوت گناہ سر عام دینے والی، آوارہ گرد میرا جسم میری مرضی والوں کا ہوسکتا ہے، معزز و شریف خواتین کا نہیں. موصوف کا مطلب یہ سب کچھ لکھنا کسی موم بتی مافیا این جی او سے کچھ مفاد حاصل کرنا ہو سکتا ہے

    (1 posts)

    Mantay hain bhai aisa hota ha but ap ny kuch zyada h brha ky bta dya ha khuda ka wasta ha islami country mein rehty ho to pehly aurton ko bhe thora deen py chlny ky talkeen kro r phr aisay awara lrkon ko bhe phenti ka ehtmam kiya jaye

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More