’’پتر میں منگتی نئیں آں ‘‘

تحریر: راشد احمد

’’پتر میں منگتی نئیں آں ‘‘

یہ الفاظ محلے کے منچلے نوجوانوں سے راشن لیتے وقت حاجراں بی بی کے تھے ۔ حاجراں بی بی ہمارے محلے کی ایک غریب خاتون تھی ، جوانی میں ہی اسکے شوہر کا ٹی بی سے انتقال ہوگیا تو تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کا بوجھ اس پر پڑگیا۔ حاجراں بی بی نے لوگوں کی چارپائیاں اُون کر، کپڑے سی کر اپنے بچوں کو پالا، ایک بیٹی کی شادی کردی، بڑا بیٹا کمانے کے قابل ہوا تو کچھ ہی سال بعد ایک فیکٹری میں کام کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے اسکا انتقال ہوگیا۔

ایک بار پھر حاجراں بی بی کے کندھوں پر بوجھ آگیا، اس نے پھر ہمت دکھائی اور لوگوں کے کپڑے سی کر، ایک بنگلے میں جھاڑو پونچھا دیکر کر بیٹیوں کو پالنا شروع کردیا اور دو بیٹیوں کی شادی کردی لیکن حاجراں بی بی کی قسمت ہی خراب تھی، بڑی بیٹی کے شوہر کا انتقال ہوگیا ، سسرال والوں نے منہ پھیر لیا تو بڑی بیٹی اپنے تین بچوں سمیت ماں کے گھر آگئی اور سلائی کڑھائی میں ماں کی مدد کردنا شروع کردی۔ دوسرا بیٹا بھی کمانے کے قابل ہوگیا اور اس نے گھر کے پاس ہی ایک موٹرسائیکل پنکچر لگانیوالی دکان کھول لی، گزر بسر ہوتا رہا، حاجراں بی بی نے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی کردی۔

اس دوران ملک میں کرونا وائرس کی وبا عام ہوگئی۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو دکانیں اور فیکٹریاں بند ہونا شروع ہوگئیں۔ بیٹا جس کی موٹرسائیکل پنکچر لگانے کی دکان تھی، وہ بھی بند ہوگئی ۔ حاجراں بی بی اور اسکی بیوہ بیٹی کا کپڑوں کی سلائی کا کام بھی ٹھپ ہوگیا اور کچھ دن بعد نوبت فاقوں تک آگئی۔

وہ حاجراں بی بی جس نے محنت کرکے اپنے بچوں کو پالا، وہ بھی ادھر ادھر بھٹکنا شروع ہوگئی کہ کہیں سے راشن مل جائے اور وہ اپنا، بیٹے، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کا پیٹ پال سکے۔ محلے میں آدھے درجن سے زائد منچلے نوجوان آٹا بانٹ رہے تھے، جسے بھی دو کلو آٹے کا شاپر دیتے، اسکے ساتھ اپنا فوٹو سیشن کرواتے، سیلفیاں بناتے۔ حاجراں بی بی نے بھی آٹے کیلئےہاتھ بڑھایا۔

سب نوجوانوں نے حاجراں بی بی کے ہاتھ میں راشن دیا اور فوٹو کھینچنے لگے۔ حاجراں بی بی کو لڑکوں کی یہ حرکت بری محسوس ہوا ، بے آسرا ہوکر بھی اس نے ساری زندگی خودداری میں گزاری، اس نے کہا کہ اینج نہ کر، میں منگتی نئیں آں (ایسے نہ کرو، میں بھکاری نہیں ہوں)

ایک نوجوان نے کہا کہ مائی جی! میں کدوں کیا اے کہ تُوں منگتی آں۔۔ فوٹو کھچوالو (میں نے کب کہا کہ تم بھکاری ہو، تصویر کھنچوالو)

حاجراں بی بی نے کہا کہ نہ پُت! میں فوٹو نئیں کھچوانی، اینج کر آ اپنا شاپر رکھ لے(نہ بیٹا میں نے تصویر نہیں کھنچوانی)۔۔

یہ کہہ کر حاجراں بی بی نے شاپر لڑکے کے ہاتھ میں دیا اور آنکھوں میں آنسو لئے تیزی سے اپنے گھر میں گھس گئی اور گھر کا دروازہ بند کرلیا

حاجراں بی بی ساری رات روتی رہی، اس دوران اسے کسی کی آہٹ سنائی دی، لیکن نظرانداز کرکے سو گئی، صبح اٹھی تو صحن میں دیکھا کہ راشن کا بڑا سا شاپر پڑا ہوا ہے۔ یہ شاپر ساتھ والا ہمسایہ فیقا نائی رات کے اندھیرے میں دیوار پھلانگ کر خاموشی سے رکھ گیا تھا جو یہ حاجراں بی بی کے ساتھ ہونیوالا ماجرہ دیکھ رہا تھا۔

    (31 posts)

    یہ کہانی حاجراں بی بی کی نہی بلکہ ۸ کروڑ غریب عوام کی ہے جو ان حالات میں مر مر کر جی رہے ہیں۔ جنہوں نے کسی کے سامنے کبھی ہاتھ نہی پھیلایا تھا لیکن اب سندھی وڈیرے سیاست دانوں کے ہاتھ سے دو کلو چاول کا شاپر لے کر تصویر کھنچوانے پر مجبور ہیں۔ خدا کے لئے دیتے ہوئے غرباء کی انا کا قتل مت کریں کیونکہ اس طرح نہ صرف ان کا دل دکھتا ہے بلکہ اس صدقے کا آپ کو ثواب بھی نہی ملتا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More