میرا آج کا ہیرو!

کیپٹن( ر ) قاسم اعجاز ڈپٹی کمشنر دیامر چلاس
اپنے والد کرنل اعجاز تبسم کے ساتھ

گجرات جسے خطہ یونان کہا جاتا ہے ہر اعتبار سے زرخیز بھی ہے اور مردم خیز بھی،سیاست ہو یا صحافت ، رزم ہو یا بزم گجرات والوں کی شان نرالی ہے ۔

تحصیل کھاریاں کا قدیم قصبہ ککرالی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔اسی گاؤں کے باسی ، ٹاٹ سکولوں کے طالب علم اعجاز تبسم نے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور کرنل کے عہدے پر متمکن ہوئے شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز ملٹری سے نوازا گیا۔

1988 میں کرنل اعجاز تبسم کو اللہ نے اولاد نرینہ سے نوازا،نومولود کا نام قاسم رکھا گیا ۔ اپنے بابا کی سروس کے باعث گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والا یہ طالب علم 2003 میں گیریژن اکیڈمی کھاریاں سے میٹرک کرنے کے بعد سرسید ایف جی سکول راولپنڈی کینٹ سے ایف ایس سی کا امتحان 2005 میں نمایاں حیثیت میں پاس کرتا ہے ۔

2006 میں اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتے چلتے پی ایم اے 118 ویں لانگ کورس میں کمیشن حاصل کر لیا ۔ 2008 میں پاس آوٹ ہونے والے لیفٹینٹ کی پہلی تعیناتی کیولری رجمنٹ میں ہوئی اور حسن اتفاق یہ کہ اسٹیشن بھی کھاریاں ملا۔ وہی کھاریاں جہاں اس نے جنم لیا جہاں سے میٹرک کیا جب اس کے بابا یہاں بہادر بٹالین کی کمان سنبھالتے تھے ۔ آج بیٹا بھی اسی کھاریاں سے عسکری کیرئیر کا آغاز کر رہا تھا۔

ہونہار،بروا کے چکنے چکنے پات ذہانت ، متانت ، جرات و استقامت تو جیسے اس کی گھٹی میں پڑی تھی ۔ پیشہ ورانہ کورسز امتیاز کے ساتھ پاس کرتے کرتے ترقی کے مدارج تہہ کرتے اس جوان کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ اس کی پرواز آسمان تک ہو گی۔

مزید خبریں۔

سیاچن گلیشیئر پر تعیناتی کے دوران اس نے جرات و قیادت کے نئے اسلوب متعارف کروائے ۔ دہشت گردی کے خلاف سوات اور کے پی میں میدان گرم ہوا تو سیماب صفت یہ نوجوان اگلے محاذ پہ داد شجاعت دیتا نظر آیا۔ ایک اور اعزاز اس کا منتظر تھا جنرل جاوید قمر باجوہ کے سٹاف آفیسر کی حیثیت سے اس کا انتخاب بلاشبہ اس کی صلاحیتوں کا کھلا اعتراف تھا۔

پاک فوج میں بطور آفیسر اس کا کیرئیر اگرچہ محض آٹھ سال کے مختصر عرصے پر محیط ہے لیکن قدم قدم اس کی خداداد صلاحیت ، بے مثال شجاعت کا امین ہے۔ دست قدرت نے اس جوان سے اور کام لینا تھا اور وہ تھا مخلوق خدا کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی کا۔

2015 میں پاک فوج کی جانب سے سول سروس کمیشن کا مرحلہ آیا تو قسمت آزمائی کرنے والوں میں یہ بھی شامل تھا اور قسمت کی دیوی یہاں بھی اس پر مہربان تھی۔ اپنی لیاقت و دانش کے بل بوتے پر سینکڑوں امیدواروں میں ایک کڑے انتخاب سے گذر کر یہ سرخرو ٹھہرا اور اس کے نام کا قرعہ DMG گروپ میں جا نکلا۔

2015 میں سول سروس اکیڈمی کا رخ کیا جہاں سے 2016 میں تربیت کے بعد بطور اسسٹنٹ کمشنر پاس آوٹ ہوا۔ دو سال اس نے گلگت ، ہنزہ ، تانجیر میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں اسے گلگت بلتستان میں ڈپٹی ہوم سیکرٹری کے عہدے پر ترقی دی گئی اور ابھی حال ہی میں یہ نوجوان دیامر چلاس کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز ہو چکا ہے۔

فوج میں ایک شاندار پیشہ ورانہ کیرئیر کے حامل اس نوجوان نے جب سول سروس کے میدان میں قدم رکھا تو یہاں بھی گورننس کا ایک نیا اسلوب متعارف کروانے میں کامیاب ہوا اور وہ اسلوب تھا خدمت کا ، قانون کی حکمرانی کا ، اعلی اقدار کی بحالی کا بہت کم عرصے میں اس نے بطور ایک سول سروس آفیسر کے جو نیک نامی اور شہرت کمائی ہے وہ قابل رشک بھی ہے اور باعث تحسین بھی جس کا اعتراف مقامی آبادی نے بھی کیا اور حکومتی سطح پر بھی اس کی بازگشت سنائی دی۔

ماں باپ کا قابل فخر یہ سپوت ضلع گجرات کی شان ہے ،تحصیل کھاریاں کی پہچان ہے م،یرے وطن کی آن بان ہے
مجھے فخر ہے اپنے ہیرو کیپٹن ( ر ) قاسم اعجاز پر جو آج کل ڈپٹی کمشنر ہے دیامر چلاس ضلع کا

دعا ہے کہ یہ نوجوان اپنے کیرئیر کا عروج دیکھے اور جہاں بھی جائے مخلوق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرتا رہے۔

  • With all due respect. There are thousands of people like this guy in the armed forces and beyond. Why have you only highlighted him. I thought there is something extraordinary in the story. But there is nothing special about him or his achievements.

  • Don’t praise heroes when they are gone.. He is definitely one of our countless heroes which make difference every day. Recognizing one is gesture of respect for others too… Best Wishesffor him and all others serving the nation humanity and Islam

  • پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک سی ایس پی. جس کے والدین سکول ٹیچر تھے. ساری عمر کرائے کے گھر میں محنت کر کے پڑھایا. اس کے سی ایس ایس کے آخری پیپر والے دن والد صاحب ہسپتال میں تھے جہاں اس نے پیپر سے فارغ ہو کر انہیں خون کی بوتل دی. ایک دواساز کمپنی میں میڈیکل ریپریزنٹیٹو. جو ڈاکٹروں سے ملنے کے انتظار میں ساتھ ساتھ تیاری بھی کرتا تھا.

    والد کے انتقال کے بعد نوکری اور بیوی اور بیٹے کی ذمہ داریوں کے ساتھ امتحان پاس کیا.

    انٹرویو پر جانے کے لیے پیسے نہیں تھے. اپنا پرانا لیپ ٹاپ بیچ کر اسلام آباد انٹرویو دینے گیا.

    وہ اس فوجی افسر کے بیٹے سے بہت سینئر ہے. لیکن آج بھی اس کے پاس اپنا ذاتی گھر اور گاڑی نہیں ہے. لیکن عاجزی انکساری اور اپنے ماتحتوں کے لیے عزت ہے. اور والدہ کا فخر.

    Respect

  • He cant compete a…

    Middle class CSP officer with parents working as teachers and father died during his CSS exams. Was Doing a private job  and preparing for CSS with a wife and a Son. Sold his laptop to get enough money to travel to Islamabad for final interview. And still he doesn’t own his personal house and car. He is very senior to this retired captain. But he is humble and loyal to his country and patient and caring to his subordinates.

    Respect.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >