اوقات کار

آج ڈھونڈ نے سے بھی ٹی وی کے کسی پروگرام میں اصلاحی پہلو نہیں ملتا

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا رہن سہن،اٹھنا بیٹھنا،بات کرنا،پہننا اوڑھنا ہر چیز بدل جاتی ہے جسے انگریزی لغت میں ‘living standards’بھی کہا جاتا ہے۔اگر ہم اپنے ذہنوں کو تھوڑی سی تکلیف دیں اور ماضی میں لے کر جاۓ تو ہمیں ٹیلیویژن کا گزرا ہوا ایک دلفریب اور دلچسپ زمانہ یاد آتا ہے جب ٹیلیویژن ‘بلیک اینڈ وائٹ’ ہوا کرتے تھے۔صرف دو سے تین چینلز آتے تھے۔رات آٹھ بجے والا ایک ڈرامہ آتا تھا۔9بجے خبرنامہ اور 12 بجے تک سبھی نشریات بند ہو جایا کرتی تھیں۔

اس وقت کے ڈراموں میں حیا اور تقدس کا عنصر نمایاں تھا۔ڈرامے کے ختم ہو جانے پر کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق دیا جاتا یا زندگی گزارنے کا کوئی نا کوئی سنہری اصول بتایا جاتا تھا۔اندھیرا اجالا،دھوپ چھاؤں،وارث اور لاگ ان بہترین ڈراموں کی فہرست میں شامل ہیں۔طادق عزیز کا گیم شو لگا کرتا تھا جس میں آسان سوالات کے جوابات پر قیمتی تحائف سے نوازا جاتا تھا۔

بچوں کی تفریح کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ان کی پسند کے کارٹون اور پروگرامز نشر کییے جاتے تھے۔
لیکن۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔۔

اگر اس گزرے ہوئے وقت اور آج کے دور کا موازنہ کیا جائے تو جدیدیت تو بہت ہے۔فیشن بھی بہت ہے۔لیکن حیا کی پاسداری کا عنصر کہیں نظر نہیں آتا۔نوجوان نسل بگڑی پڑی ہے۔ایک بلا جو’tik tok’کے نام سے جانی جاتی ہے۔مستقل اپنے پنجے نوجوانوں میں گاڑھے نظر آتی ہے۔ادھ ننگے پھٹے کپڑے  لڑکیاں  فیشن کے نام پر پہن کر فضول سی انڈین دھنوں پر تھرکتے ہوئے جسموں کی نمائش کرتی نظر آتی ہیں۔

آج ڈھونڈ نے سے بھی ٹی وی کے کسی پروگرام میں اصلاحی پہلو نہیں ملتا

تشریف لے آئے اب ذرا ٹی وی چینلز پر!جہاں پر اچھے اچھے گھرانوں کی با پردہ بیبیاں ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے والے اداکاروں کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ان سے چمٹی ہوئی نظر آتی ہے۔جہاں پروگرام کو چلانے والا میزبان گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنے پروگرام کی خصوصیات گنوا رہا ہوتا ہے۔داڑھی والے حضرات پنجابی گانوں پر رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامے بازیاں دیکھنے کو ملتی ہے۔جنہیں ایک سمجھدار انسان کی عقل تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔آج ڈھونڈ نے سے بھی ٹی وی کے کسی پروگرام میں اصلاحی پہلو نہیں ملتا۔ TRP کی دور میں ہم ساری حدود و قیود پار کر رہے ہیں۔

آج ڈھونڈ نے سے بھی ٹی وی کے کسی پروگرام میں اصلاحی پہلو نہیں ملتا

کسی بھی قوم کا اثاثہ علماء کرام ہوتے ہیں۔زندہ و جاوید قوموں کی طرح ہمارا اثاثہ بھی وہی ہیں۔جنہیں براہ راست نشریات میں ذلیل کروا کر ہم اتراتے نظر آتے ہیں۔اگر ہم اپنی زندگیوں کا تقابلی اور اجتماعی جائزہ لیں تو کہیں بہتری کے آثار نہیں دکھتے۔یہ تو صرف یقیناً ان الفاظ کا صدقہ ہے کہ جن کی زبان مبارک پر دنیا سے پردہ فرماتے بھی بس یہی الفاظ تھے”اے اللّٰہ میری امت۔۔۔۔۔اے اللّٰہ میری امت”

ردا بشیر،ظفروال۔

  • ادھ ننگے پھٹے کپڑے  لڑکیاں  فیشن کے نام پر پہن کر فضول سی انڈین دھنوں پر تھرکتے ہوئے جسموں کی نمائش کرتی نظر آتی ہیں۔

     


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >