طلب علم .. ردا بشیر

ردا بشیر،ظفروال

طلب علم …
اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دیجئے اورمیرے کام کو میرے لئے آسان کر دیجئے اور میری زبان کی گرہ کھول دیجئے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں [آمین].

جو شخص علم کی جستجو میں کسی راہ کا مسافر ہوا اللہ اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے [حدیث]

ریاست اور مذہب کو ایک نئے اقتدار کے ڈھانچے سے جوڑنے اور مسلسل کوششوں اور جہتوں میں سرگرم عمل رہنے کا نام علم ہے .اس تحریک کی جڑیں مسلم معاشرے کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرے تو ہر سمت علم کی رعنائیاں پھیلی نظر آتی ہیں۔۔

علم ایک پہلو ہمیں ” ارتغرل غازی "سے بھی ملتا ہے ذرا پیچھے جائے تو احادیث کی مستند ترین کتابیں دکھائی دیتی ہیں… اور بھی ذرا پیچھے جائے تو قلب,بصیرت اور بصارت کو نوربخشتا علم کا سب سے بڑا علمبردار "قرآن "نظر آتا ہے. جس پر علم اور عمل کے سب زاویے اور حدیں ختم ہوئی ہیں۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو اسلام کی تعلیم اور اسلام کے بارے میں تعلیم ان دونوں کے مابین فرق ہے.کیوں کہ ان دونوں میں نظریاتی تصور کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے

جس میں عمومی طور پر پر نقطہ نظر رکھنے کے ساتھ اسلامی صحیفے اور پیغمبرانہ بیانات کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے انسان اپنے علم کے ساتھ ہر ایک کی عقل سلیم پر نہ ٹھر سکتا نہ پورا اتر سکتا ہے تعلیم کا مطالعہ پچیدہ معاشروں کے لیے گرہ ہو سکتا ہے

جنوب مشرقی ایشیا میں اسلامی تعلیم دنیا کے اس حصہ میں اسلام کے تنوع کی عکاسی کرتی ہے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلامی تعلیم کا ایک غیر معمولی، بڑا اور ترقی یافتہ ڈھانچہ ہے جو اسلام کے اندر نظریات کی جاری جنگ میں اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے "یونیورسٹی آف پینسلونیا "کے ایک پروفیسر نے تو ان کی علم پر تحقیق کی اور ایک مقالہ بھی جاری کیا۔ جسے "واکنگ قرآن” کا نام دیا گیا …..بہت سارے چیلنجر سے نمٹنے کے بعد بعد اسے قابل تحسین انعامات اور سکالرشپس سے نوازا گیا.اسلامی تعلیم کو سب سے مناسب طور پر ہر تین باہم تصورات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے

تربیب
طالب
( تدب  (اچھی کاروانی

اسلامی سکولوں خاص طور پر مدرسوں کو مسلم طلبا اور عسکریت پسندوں کے لیے بد عنوانی کے مقامات کے طور پر دیکھا جاتا ہے اللہ تعالی علم کی راہ رکھنے والا اور علم کی راہ میں نکلنے والے کو اپنے بہت قریب رکھتا ہے اللہ تعالی ساری انسانیت بالخصوص دماغ کا علم رکھنے والوں کو متوجہ کر کے کہتا ہے اور ان کے سامنے چار چیزوں کی قسم بھی کھاتا ہے

۔فجر کی قسم
.دس راتوں کی قسم
۔جفت اور طاق کی قسم

.سور رات کی قسم جب وہ جانے لگے۔

اللہ نے بارہا مختلف مقامات پر فرمایا”اور نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے”یہ نہیں فرمایا کہ "دماغ والوں کے لئے”دناغ تو سبھی کو دیا لیکن اسکا استعمال ہر کوئی نہیں کرتا۔وہ غوروفکر،سوچ،تدبر اور بلندی کو پسند کرتا ہے۔اپنی سوچ اور عزائم بلند رکھواور باقی اس پر چھوڑ دو۔وہ جانے اور اس کا کام۔۔۔۔۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>