ماں تجھے سلام

ماں تجھے سلام

ایک بہادر خاتون ، بے مثال ماں با کمال بیوی کی داستان حیات ۔۔۔ جس نے 11 سال بستر علالت پر پڑے خاوند کی تیمار داری کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ بچوں کی پرورش احسن انداز میں کی اور 25 سال تک علاقے کی سینکڑوں بچیوں کو زیور علم سے آراستہ کر دیا۔

تحصیل کھاریاں کے نواحی گاوں ٹھٹھہ پور کے باسی ڈا کٹر محمد صادق پاک فوج کی میڈیکل کور سے ریٹائر ہوئے جن کا علاقے میں ایک نمایاں مقام تھا۔ کثیر العیال محمد صادق کے یوں تو سبھی بچوں نے واجبی تعلیم حاصل کر رکھی تھی مگر ان کی ایک بیٹی کی تشنگی علم نے اسے چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد اس نے پیشہ معلمی کو چنا اور محکمہ تعلیم میں خدمات کا آغاز کر دیا۔

کچھ عرصہ بعد اس کی شادی تھانہ ٹانڈہ کے ایک گاؤں کولیاں بہار شاہ کے میاں فیض اللہ سے ہو گئی جو زمیندارہ کرتے تھے ۔گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کے پاس اس زمانے میں اپنی کوئی عمارت ہی نہ تھی ۔ درس و تدریس سے عشق رکھنے والی اس معلمہ نے قرب و جوار کے دیہات کی بچیوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے کی خاطر اپنے گھر کو وقف کر کے سکول بنا دیا ۔ جہاں ایک طویل عرصہ سلسلہ تدریس جاری رہا ۔ اپنے پیشے سے لگن اور جذبہ ایثار کی ایسی مثال کہاں ملتی ہے ۔ سرکار نے سکول کی عمارت تعمیر کی تو ان کے گھر سے یہ مدرسہ اس عمارت میں منتقل ہوا۔

اللہ نے اسے 4 بیٹوں اور ایک بیٹی سے نواز دیا ۔ زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی کسے خبر تھی کہ ایک انہونی ان کی منتظر ہے 1994 میں ایک حادثے کے نتیجے میں خاوند کی جان بچ تو گئی مگر فالج کا شکار ہونے کے باعث بستر سے جا لگے ڈاکٹرز نے بتا دیا کہ اب باقی کی زندگی انہیں معذوری سے کاٹنا ہو گی ۔

کیسا کڑا امتحان تھا پانچ چھوٹے چھوٹے بچوں کی پرورش ، بستر پہ پڑے خاوند کی دیکھ بھال ، درس و تدریس کی ذمہ داریاں ،لیکن اللہ نے اس خاتون کو حوصلہ بھی کمال کا دے رکھا تھا ۔ لبوں پہ مسکراہٹ سجائے کمال صبر کا مظاہرہ کرتی ہوئی یہ عورت کتنے محاذوں پہ لڑتی رہی ۔ تنہائی میں کسی لمحے اپنے رب کے سامنے اپنی بپتا نہ کہہ لیتی ہو مگر سب کے سامنے اس کے چہرے پہ چٹانوں جیسا حوصلہ جھلکتا۔ اسے پتہ تھا کہ میں ہمت ہار گئی تو بچوں کا سہارا کون بنے گا۔

یہ سب اتنا آسان نہ تھا ایک کٹھن جدوجہد تھی جو اسے درپیش تھی ۔ سرکاری نوکری کے جھمیلے ، گھر داری کے بکھیڑے ، بچوں کی معصوم خواہشیں مجازی خدا کی حالت اوپر سے رشتہ داروں اور زمانے بھر کی کڑوی کسیلی باتیں ،چاہتی تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر راہ فرار اختیار کر لیتی لیکن آفرین ہے اس پر جس نے بھری جوانی اپنی اولاد اور بیمار خاوند پر وار دی۔

گیارہ برس اپنے سر کے تاج کو بستر علالت پہ اس مستقل مزاجی اور حوصلے سے سنبھالا کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔
9ستمبر 2005 کو میاں فیض اللہ 11 برس کی طویل بیماری کی اذیت جھیل جھیل کر زندگی کی قید سے آزاد ہو گئے۔
بیوگی کا روگ دل میں لئے جیون کے جلتے ہوئے لق و دق صحرا میں اب اسے ننگے پاوں چلنا تھا۔ اب اسے بچوں کو باپ کی جگہ بھی دینا تھی پھر اس نے بچوں کو اپنی آغوش میں لے کر زمانے کی سرد وگرم ہواؤں سے بچا کر اس احسن انداز میں پالا کہ مثال بنا دیا۔

25 سال تک محکمہ تعلیم میں بطور ہیڈ مسٹریس فرائض منصبی سر انجام دینے والی محترمہ رفتاج فیض ریٹائر ہوئیں تو سب اداس تھے کہ اس نے علاقے بھر کی بچیوں میں علم کا نور اس شان سے بانٹا کہ ہر کس و ناکس ان کا نام آج بھی احترام سے لیتا ہے۔

اپنے تین بیٹوں کے ماتھے پہ اپنے ہاتھوں سہرا سجایا ۔ اپنی بیٹی کو بابل کی دہلیز سے خود رخصت کیا۔  بیٹی اپنے میاں کے ساتھ اسپین میں مقیم ہے ایک بیٹا احتشام بسلسلہ روزگار جنوبی افریقہ میں ہے دو بیٹے سمیع اللہ اور عمران نجی شعبے میں بر سر روزگار ہیں جبکہ امان اللہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ماں کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے امان اللہ نے چھوٹے بھائی کی شادی کا فریضہ سرانجام دیا۔

اپنی ساری زندگی ایک طویل مشقت سے گذرنے والی یہ ماں اب بہت تھک چکی تھی اسے آرام کی ضرورت تھی یوں بھی وہ اپنے سارے فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دے چکی تھی۔

ایک مطمعن، شاد کام زندگی گذار کر خدا کی یہ بندی 10 اکتوبر 2015 کو اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی اور اس شان کے ساتھ کہ یہ اپنے رب سے راضی اور اس کا رب اس پہ راضی۔

سوچتا ہوں کیسے خراج تحسین پیش کروں اس خاتون کو جو عزم و حوصلہ کا کوہ گراں تھی کوئی ایک بھی لفظ ایسا نہیں جو اس کی عظمت کو بیان کر پائے۔

ایک خاتون کے جس قدر روپ ہیں جتنے حوالے ہیں ان سب کا مان تھیں بیگم رفتاج فیض۔۔۔

ایک باہمت فرمانبردار بیٹی جس نے اپنے بابا کی لاج نبھائی ایک وفا شعار بیوی جس نے اپنی زندگی کے 11 سال بیمار و معذور خاوند کی پٹی سے لگ کر اس انداز سے تیمار داری کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے، ایک شفیق ماں جس نے اپنے بچوں کو باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی، پرورش تربیت کا حق ادا کر دیا ۔

ایک خوددار مشرقی خاتون جس نے کمال حوصلے برداشت اور صبر سے آبرو مندانہ زندگی بسر کی۔ ایک فرض شناس معلمہ اور منتظمہ جس نے خانگی زندگی کی الجھنوں کو کبھی اپنے فرض کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا۔

آپ مان ہیں نسوانیت کا
مشرقیت آپ پہ ناز کر سکتی ہے
مینارہ نور ہیں آپ ماؤں کے لئے
اللہ کریم اپ کی مرقد کو منور فرما دے
ماں تجھے سلام

عامر عثمان عادل کوٹلہ


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >