روتا ہوا بیروت

روتا ہوا بیروت

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع ساحلی ویئر ہاؤس میں ہونے والے پر زور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی اور 4000 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔” اے ایف پی” کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس المناک حادثے کی وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے ۔کیونکہ ریسکیو اور ایمرجنسی ادارے ملبے کے ڈھیر سے لاشیں نکال رہے ہیں۔

یہ معاشی بحران سے دوچار اور کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز سے نبرد آزما بیروت میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران ہونے والے سب سے زوردار دھماکا تھا۔ اس دھماکے سے عمارتیں لرز اٹھیں۔سیاہ اور سرمئی رنگ کا دھواں پھیل گیا۔

دھماکہ بندرگاہ کے علاقے میں ہوا جہاں کئی گوداموں میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا ۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ آگ کا ایک گولہ اور دھواں بیروت میں پھیلتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔لوگ چیخ رہے تھے ۔۔۔۔۔خون ہی خون تھا۔۔۔۔عمارتوں کی چھتیں اڑ گئیں اور اونچی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر بکھر گئے۔

صدر مچل عون کا کہنا تھا کہ 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ فرٹیلائزر بموں میں استعمال کیا گیا ۔جسے بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے چھ سال سے پورٹ پر ذخیرہ کیا جا رہا تھا اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔

روتا ہوا بیروت

انھوں نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے دو ہفتے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو بیرون شہر لے جایا جا رہا ہے کیونکہ اندرون شہر کے ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں جبکہ جنوبی اور شمالی علاقوں سے تمام تمام ایمبولینسز کو طلب کیا گیا ہے۔

اس دھماکے سے 3.5 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی ایٹمی دھماکہ ہوا ہو اس دھماکے سے 1975سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی یاد تازہ ہوگئی۔جب لبنان میں آئے دن دھماکے ،شیلنگ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیاں ہوتی تھیں۔

لوگوں کو لگا کے جیسے کوئی زلزلہ آگیا اور وہ بھاگتے پھرتے اپنے پیاروں کے متلاشی تھے۔طبی عملے کے ایک فرد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے آج تک ایسا نہیں دیکھا انتہائی خطرناک بلاسٹ تھا بیروت کے ایک ڈیزائنر "ہدی بروری "نے کہا کہ دھماکے نے مجھے کئی میٹر دور اٹھا کر پھینک دیا میں چکرا سی گئی اور خون میں لت تھی۔

دھماکے کی شدت 240 کلومیٹر دور قبرص تک محسوس کی گئی۔ وزیراعظم” حسن دیاب "کا کہنا تھا کے ذمہ داران کو دھماکے کی قیمت ادا کرنا ہوگی گی۔

روتا ہوا بیروت

حکام یہ بتانے سے ابھی تک قاصر ہیں کہ وہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ویئر ہاؤس میں ویلڈنگ کا کام کرنے کے دوران کسی کی غفلت کی وجہ سے ہوا ۔حکومت کا کہنا ہے کہ نقصان کا اندازہ نہیں لگا سکے یہاں پر بات قابل ذکر ہے کہ دھماکا اس وقت ہوا جب اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ عدالت تین دن بعد ہی 2005 میں بم دھماکوں میں ملوث حزب اللہ کے 4 ملزمان کے مقدمے کا فیصلہ سنانے والی تھی۔

وزیراعظم عمران خان سمیت بہت سے ممالک نے ساتھ کی یقین دہانی کروائی اور ہر طرح کی امداد کا اعلان کیا ۔اسرائیل نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ لبنان سے کئی بار جنگ لڑنے والے اسرائیل کا دھماکے سے کوئی لینا دینا نہیں اور ان کا ملک انسانی اور طبی امداد کو تیار ہے۔

حزب اللہ کی حمایت کرنے والے ایران نے بھی متاثرہ ملک کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔جب کہ ایران کے حریف سعودی عرب نے بھی امداد کے اعلان یقین دلایا ہے۔قطر اور عراق کا کہنا ہے کہ وہ عارضی ہسپتال بھیج رہے ہیں تاکہ زخمیوں کو ہر وقت امداد مل سکے جب کہ امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے وہ امداد کو تیار ہیں۔

روتا ہوا بیروت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ ممکنہ طور پر حملہ ہو سکتا ہے جب ان سے اس حوالے سے مزید تفصیل پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ان کی چند ایک امریکی جرنیلوں سے ملاقات ہوئی جن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی عام دھماکے کا واقعہ نہیں ہو سکتا البتہ دو امریکی عہدیداران کے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ابتدائی تفتیش ٹرمپ کے بیانیے کی نفی کرتی ہے۔
ردا بشیر،ظفروال


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>