جس موٹروے پر زیادتی ہوئی، وہ الحمداللہ ن لیگ نے بنائی – ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی

گیا وقت ہاتھ آتا نہیں ، سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں

پچھلے ایک ہفتے سے پاکستان مجموعی طور پر جس کرب کا شکار رہا، وہ ناقابلِ بیاں ہے۔ 8 ستمبر، بروز منگل، رات کے آخری پہر میں ہونے والا اندوہناک واقعہ جس میں ایک خاتون کو بچوں سمیت گاڑی کے شیشے توڑ کر نکالا گیا، اس کے پاس موجود پیسے، زیورات اور ATM کارڈ لوٹ کر، بعد ازاں اسے اپنے بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بنایا گیا، پوری قوم کو جھنجھوڑ گیا۔

جیسے ہی یہ واقعہ میڈیا پر رپورٹ ہوا، ہر طرف ہلچل مچ گئی۔ دہائیوں سے نااہلی کی فضا میں پروان چڑھتی پولیس کی جانب سے شروع میں مجرموں کی بجاۓ مظلوم خاتون کو نصیحتوں کے انبار عطا کیے گئے، جس پر ملک بھر میں تند و تیز بحث کا سلسلہ چل نکلا۔ کہیں خاتون کو موٹروے کی بجاۓ جی ٹی روڈ کا انتخاب نہ کرنے پر کوسا گیا تو کہیں اسے بچوں کے ساتھ اکیلے سفر کرنے پر سخت سست سنائی گئیں۔  تین دن تک اپنے بےوقت کے غیرموزوں بیان کی توجیہہ پیش کرتے CCPO صاحب کو بالآخر خیال آیا کہ بہرحال اس گفتگو کے لئے نہ تو یہ وقت موزوں تھا،

نہ گفتگو کا متن، کہ بہرحال برا وقت انسان کی جنس، عقل و دانش یا سفر کے چناؤ کا وقت دیکھ کر نہیں آتا، بس آ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے بزرگوں کو ہمیشہ بری گھڑی سے اللہ‎ کی پناہ مانگتے دیکھا ہے۔ CCPO صاحب کا اپنے بیان پر کل غیر مشروط معافی مانگنا ایک خوش آئند اقدام تھا۔

اس سب تکلیف دہ مرحلے میں خوش آئند بات بس یہی رہی کہ ملزمان، 27 سالہ عابد علی اور 23 سالہ شفقت علی کی 72 گھنٹوں کے اندر اندر شناخت ہو گئی۔ عابد علی اپنی اہلیہ سمیت روپوش ہو گیا جبکہ شفقت علی کو زیر حراست لے لیا گیا اور تفصیلی تفتیش پر معلوم ہوا کہ ملزم، شفقت علی، عابد علی کے ساتھ 11 ایسے واقعات میں ملوث رہ چکا تھا اور دکھ کی بات یہ کہ عابد علی ابھی دو ہفتے قبل ہی (مزید جرائم کرنے کے لئے) جیل سے ضمانت پر رہا ہو کر آیا تھا۔

یہ زیادتی کا واقعہ دو مرحلوں پر روکا جا سکتا تھا۔ ایک تب جب 2013 میں یہی ملزم، عابد علی کسی کے گھر زبردستی داخل ہو کر ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو ان کے گھر والوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنا کر چلتا بنا۔ اور دوسرا تب جب موٹروے پر بدقسمتی سے گاڑی میں پیٹرل ختم ہو جانے کی وجہ سے بچوں سمیت پریشان حال خاتون موٹروے ہیلپ لائن 130 پر مدد کے لئے پکارتی رہی لیکن وہاں ذمہ داری کے تعین پر بےتکی بحث چلتی رہی۔

شاید کوئی بھی حادثہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہمارا اس حادثے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی کمی اسے بنا دیتی ہے۔ کل جہاں وفاقی وزیر براۓ مواصلات، مراد سعید نے اس واقعے کی مکمل ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت مرد عورتوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر شرمندہ بھی ہیں اور اسکی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں، بھلے یہ واقعہ موٹروے پر ہوا یا نہیں۔ بھلے خیبر سے کراچی تک پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہوا ہو۔

جبکہ شہباز شریف صاحب نے کل پارلیمان میں اس واقعے پر اپنی تقریر کے دوران فرمایا کہ: "یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ جس لاہور تا سیالکوٹ موٹروے پر یہ واقعہ پیش آیا، وہ الحمداللہ، نواز شریف کی سربراہی میں ن لیگ نے بنائی تھی”۔

پچھلے چند گھنٹوں سے قوم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ زیادتی کے واقعے کی مذمت تھی یا کسی کی میت پر مٹھائی بانٹنے کی کوشش؟ اگر کریڈٹ لینا ہی تھا تو شاید شہباز شریف صاحب کو اس بات پر شرمندگی کے ساتھ کریڈٹ لینا چاہیے کہ جب 2013 میں ن لیگ کی وفاق اور پنجاب، دونوں جگہ اکثریت کے ساتھ بنائی گئی خود مختار حکومت تھی، تب سے لوگوں کے گھروں میں گھس کر تو کبھی سڑک کنارے خواتین کو ہراساں کرنے والا عابد علی آزاد کیونکر دندناتا پھرا؟ کون اس کی پشت پناہی کرتا رہا؟ کس نے اس پورے گروہ کو اتنا طاقتور کر دیا کہ یں درندوں۔ کی نظر میں اتنی حیا باقی نہ رہی کہ اکیلی عورت کو "ذمہ داری” کی بجاۓ "موقع” سمجھ بیٹھے۔

کریڈٹ لینا ہے تو شہباز شریف صاحب اپنے دور میں درندگی کی بھینٹ چڑھ کر 4 جنوری، 2018 کو قتل کی گئی سات سالہ زینب کے قاتلوں کے آج تک آزاد گھومنے کا کریڈٹ لیں اور اس بات کا بھی کہ جس پنجاب پولیس کو جن حکمرانوں نے عوام کی خدمت پر معمور کرنا تھا، وہ انہیں اپنا۔ ذاتی ملازم سمجھ بیٹھے۔

شاید یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہم موقع محل بالاۓ طاق رکھتے ہوئے "کریڈٹ” تو ہر اچھی چیز کا لینا چاہتے ہیں لیکن جب ذمہ داری لینے اور فیصلہ سازی کی بات آتی ہے تو سب کو اپنا سیاسی مفاد عزیز ہو جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا اپنے حالیہ انٹرویو میں یہ اعلان کہ عورتوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو چوک میں الٹا لٹکایا جائے اور کیمیائی آختہ کاری کے زریعے انہیں ناکارہ کر دیا جائے تاکہ وہ آئندہ کسی کی زندگی اجیرن نہ کر سکیں، خوش آئند ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کتنی جلدی اور کس حد تک عمل ہو پتا ہے۔

امید ہے کہ اچھے دن اس وطن کے منتظر ہیں، انشااللہ۔ پاکستان زندہ باد! 🇵🇰

  • یہ شریف تو انتہائی بے حس، شوخے اور کم عقل لوگ ہیں ۔ جیسے ہی یہ بتایا گیا کہ مجرمان کی فرینزک ہو رہی ہے اور شاید ایک کا ڈی این اے میچ بھی کر گیا ہے تو ن لیگ کا سب سے پہلا بیان یہ تھا کہ یہ لیبارٹری ہم نے بنائی تھی۔ اور اب اس سے بڑھ کر یہ بیوقوف شو بازیا اسمبلی میں تقریر میں آدھا وقت اس بات پر لگاتا ہے کہ جس موٹر وے پر ریپ ہوا ہے وہ میاں صاحب نے بنوائی تھی۔ میں یہ چار پانچ دن سے سوچ رہا ہوں کہ یار بے حِسی کی بھی حد ہوتی ہے۔ ساری قوم اس واقع پر انتہائی غمگین ہے۔ ایک ماں اور اس کے بچوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں اور سوائے اس لیڈی کو سپورٹ کرنے اور مجرموں کے خلاف بات کرنے کے تمہیں یہ پڑی ہے کہ جہاں یہ قیامت ٹوٹی وہ سڑک تم نے اپنے باپ کے پیسے سے بنائی تھی۔ کم ظرفی کی حد ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >