بلاول بھٹو کا شاہانہ پروٹوکول، 3روز سے پابند ڈاکٹرز ڈسپنسرز اور جمہوریت کا انتقام

بلاول بھٹو کا شاہانہ پرٹوکول، 3روز سے پابند ڈاکٹرز ڈسپنسرز اور جمہوریت کا انتقام !

پیارے پڑھنے والو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری 15 اکتوبر کو خصوصی طیارے کے ذریعے سیالکوٹ ائیر پورٹ پہنچے جہاں سے انہیں قافلے کی صورت جی ٹی روڈ کے راستے کائرہ ہاؤس لالہ موسی لے آیا گیا۔شیڈول کے مطابق چئیرمین کا لالہ موسی میں قیام 2 راتوں پر محیط تھا۔

ذرائع کے مطابق 16 اکتوبر کی رات جلسے میں شرکت کے بعد انہیں دوبارہ واپس کائرہ ہاوس آنا تھا ۔ بلاول بھٹو کے ساتھ چلنے والا سکواڈ الگ تھا جبکہ ضلع گجرات کی انتظامیہ نے ان کے قیام کی خاطر خصوصی انتظامات کر رکھے تھے۔

چناب ٹول پلازہ سے لے کر کائرہ ہاوس لالہ موسی تک کم وبیش 900 پولیس اہلکار ان کی سیکیورٹی پر مامور کر دئیے گئے اور ایک سینئر افسر کو انچارج بنا دیا گیا۔

کیسا منظر تھا 15 اکتوبر کی رات جناب قمر زمان کائرہ میڈیا کو بتا رہے تھے کہ حکومت ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور اس سے اگلے روز پریس کانفرنس میں ان کے قائد بلاول بھٹو زرداری عمران خان کو کوس رہے تھے کہ اس نے تو کہا تھا کنٹینر دوں گا مگر ہمارے راستے بند کر دئیے۔

آئیے آپ کو ایک اور منظر دکھاتے ہیں جب حکومت اور عمران خان کو برا بھلا کہا جا رہا تھا عین اس وقت کائرہ ہاوس کے باہر ریسکیو 1122 ، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں کسی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کو تیار کھڑی تھیں اور یہاں سے محض ایک کلومیٹر دور ٹراما سنٹر میں ڈاکٹرز ڈسپنسرز اور دیگر عملے پر مشتمل خصوصی دستہ چیئرمین کی صحت و سلامتی کے لئے پابند تھا۔

ڈی سی صاحب کے حکم پر محکمہ صحت گجرات نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جس میں 3 ڈاکٹرز 3 ڈسپنسرز 3 عدد وارڈ بوائے شامل تھے انہیں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کھاریاں اور تحصیل لیول ہسپتال لالہ موسی سے خصوصی طور پر بلوا کر ٹراما سنٹر میں ہمہ وقت تیار رہنے کے لئے ہدایت جاری کر دی گئی ، جن کے پاس ایک جدید ترین ایمر جینسی کٹ تھی۔

انہیں ہدایت تھی کہ آپ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے لالہ موسی قیام کے دوران ان کی صحت کاملہ کے لئے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لا کر یہ فریضہ سر انجام دیں گے اور 17 اکتوبر کو ان کی واپسی تک ٹراما سنٹر میں ہی ڈیوٹی پہ موجود رہیں گے۔

اب کیا ہوا کہ رات کو جلسہ ختم ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری لالہ موسی واپس نہیں آئے ۔ لیکن یہ تمام عملہ ، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی گاڑیاں سارا دن بادشاہ سلامت کے انتظار میں سوکھتی رہیں 2 بجے کے بعد کسی اہلکار نے ہمت کر کے کائرہ ہاوس رجوع کیا تو کمال مہربانی کرتے ہوئے انہیں مطلع کر دیا گیا کہ آپ انتظار کی شمعیں گل کر دیجئے دلبر جانی واپس نہیں آئیں گے اس کے بعد ان کی جان خلاصی ہوئی۔

یہ ہے سیاست کا وہ دوہرا معیار میڈیا کے سامنے اپنے حریف کو گالیاں دو۔ اس کے مظالم کا رونا رو کر ہمدردیاں بٹورو اور اندر کھاتے ملکی خزانے سے پورا پروٹوکول انجوائے کرو۔

مان لیا سندھ سے آیا ہوا نوجوان ہمارا مہمان تھا جس کی سیکورٹی اداروں کو عزیز تر تھی ۔اس کے لئے آپ ہماری بلا سے 900 چھوڑ 9 ہزار ملازم مامور کر دیجئے کہ آپ رسک نہیں لے سکتے لیکن سیاست کے طالب علم کا سادہ سا سوال ہے کہ کیا بلاول کی صحت اتنی خراب تھی کہ ہنگامی طور پہ اس قدر وسیع انتظامات کر کے خصوصی ٹیم کو 3 دن کے لئے ٹراما سنٹر پر پابند کر دیا گیا؟

جن ہسپتالوں سے یہ لوگ بلوائے گئے کیا وہاں جانے والے مریضوں کا استحصال نہیں؟ اور کیا یہ سب سرکاری خزانے سے ہی ہونا تھا؟ کیا کائرہ فیملی اپنے مہمان خاص کو 3 دن کے لئے اپنے خرچ پر علاج بھی فراہم نہیں کر سکتی؟

بلاول ہو یا مریم عمران خان ہو یا پرویز الہی آپ انہیں بادشاہوں سا پروٹوکول دیجئے ان کی راہوں میں سرخ قالین بچھا دیجئے پورے ملک کی مشینری لگا دیجئے ان کی نقل و حرکت پر لیکن اس کا بوجھ غریب عوام کیوں اٹھائے۔

شاہانہ پروٹوکول پر اٹھنے والے اخراجات کا بل ان سے وصول کیا جائے یا ان کے میزبانوں سے ۔ثابت ہوا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے جو یہ سیاستدان عوام سے لے رہے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >