مولانا کی تقریر ، سیاق و سباق کی روشنی میں

تحریر : عامر عثمان عادل

آج ایک عظیم باپ کے بیٹے نے کو ئٹہ کے جلسے میں دھواں دار تقریر کے دوران کہا ” ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست بنے "اس پر محب وطن حلقوں میں تشویش کی لہر کا دوڑنا فطری امر تھا اور حکومتی حلقوں سے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جانا بھی بنتا تھاکچھ دوستوں نے ان کی اس گفتگو کے دفاع میں دلائل کے انبار لگا دئیے ایک صاحب تو قرآنی آیات کے حوالے بھی دینے لگے

خود مولانا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میری تقریر میں غاصبوں کے متعلق طنزیہ جملے کو سیاق و سباق سے ھٹ کر لیا گیا ہے بلوچستان کو کسی کا باپ بھی پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا میں نے مولانا کی تقریر کو مکمل طور پر دو بار سنا جو ایک بے ربط اور منتشر خیالات کا مجموعہ تھی اور جو دوست بات کرتے ہیں سیاق و سباق کی تو آئیے پہلے مولانا کی تقریر کے اس حصے کا اقتباس دیکھتے ہیں

( ” 72 سالوں میں ہم یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ پاکستان کی تاریخ میں جتنے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں ان کو عدالتی فیصلوں سے جعلی فیصلوں سے اتارا جاتا رہا ہے جن فیصلوں کی کوئ حیثیت نہیں ہوتی جن کی بنا پر ان کو اتارا جاتا ہے گھر بھیجا جاتا ہے اور جو ان کے فیصلوں کو نہ مانے ان کی بات نہ مانے اسے پھانسی کے گھاٹ اتارا جاتا ہے اب یہ فیصلے آپ کو کرنا ہوں گے یہی وجہ ہے پی ڈی ایم کی تحریک کا آغاز کرنے کا یہ چور ڈاکو لٹیرے غاصب جو ہم پر مسلط ہیں ان سے نجات دلانی ہے

ہم چاہتے ہیں بلوچستان ایک آزاد ریاست ہو آج بلوچستان کا ماحول ایسا ہے جیسے ہم پسماندہ علاقے میں آ گئے ہوں جو حکومت آتی ہے اسے پیکیج دیا جاتا ہے جیسے ہم اور آپ بھکاری ہیں لیکن اب جو حکومت آئے گی جو پیکیج دے گی عوام کا حق ان کے دروازے تک پہنچے گا ” )

دوستو

اب آپ خود پڑھ کر سیاق و سباق کا فیصلہ کر لیجئے کہ اس جملے کا سیاق و سباق کہاں بنتا ہےخود مولانا اپنی نفی کرتے دکھائ دیتے ہیں کہ میں اس جملے میں غاصبوں پر طنز کر رہا تھا اور ایک سوال کر رہا تھا” ہم چاہتے ہیں بلوچستان ایک آزاد ریاست ہو ”
کوئی نکتہ ور کوئی دانشور اس جملے سے طنز کشید کر کے دکھا دے ایک دم یہ کہنا ہم چاہتے ہیں بلوچستان ایک آزاد ریاست ہو
مولانا ، ہم اپ کی حب الوطنی اور پاکستانیت پہ شک نہیں کرتے لیکن حضور فرصت ملے تو ذرا انڈین میڈیا پہ اپنی تقریر کی کوریج اور اس پہ ڈالی جانے والی دھمال ضرور دیکھ لیجئے

جو دنیا کو یہ باور کروا رہا ہے کہ جو بات مولانا نے کہی یہی تو بھارت کا بیانیہ ہے اے عظیم باپ کے فرزند بہتر ہوتا آپ غاصبوں کو لتاڑنے اور اپنے اس جملے کو سیاق و سباق سے ھٹا کر پیش کرنے کا کہنے کی بجا ئے اپنی اس غلطی کو تسلیم کر لیتے کہ میری زبان چوک گئی تھی جوش خطابت میں کہنا کچھ اور تھا کہا یہ گیا بس ذرا سی بات تھی اخلاقی جرات کی

  • مولانا صاحب جوش میں ہوش میں رہیں اب بڑے باپ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے کھلے عام اپنے بیان کی واضح تردید کریں

  • کہاں ڈیزل کے باپ کو بھی نظریاتی طور پہ سیدھا کردینے والا شاہ احمد نورانی اور کہاں ڈیزل کے خصیے چاٹنے والا یہ کیڑا۔بڑے باپ کا غلیظ بیٹا!


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >