محمد بخش برڑو،جس نے جنسی درندوں کو گرفتار کرنے کیلئے اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگا دی

محمد بخش برڑوسلام ہے تمہاری عظمت کو،تم نے ایک بے حس معاشرے کا کفارہ ادا کر دیا

پیارے پڑھنے والو

کشمور صوبہ سندھ میں ایک واقعہ رپورٹ ہوا کراچی سے ایک خاتون کو اس کی 4 سالہ بیٹی سمیت اغوا کر کے کشمور لایا گیا جہاں رفیق ملک نامی ایک حیوان نے اپنے ساتھیوں سمیت ماں کی عزت ہی پامال نہ کی بلکہ 4 سالہ معصوم بچی کو بھی نہ بخشا اور ماں کے سامنے اس کومل کلی کو روند ڈالا۔

ان درندوں نے بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر ماں کو اس شرط پر چھوڑا کہ جاو ہمیں کوئی اور لڑکی لا کر دو تو اپنی بچی لے جاؤ۔

لٹی پٹی ماں نے پولیس سے رابطہ کیا اور فریاد گذاری کہ وہ کہاں سے لڑکی کا بندوبست کرے۔ پولیس یوں تو پنجاب کی ہو یا سندھ کی ان سے کسی بھلائی کی توقع کم کم ہی ہوتی ہے لیکن کچھ خوف خدا رکھنے والے پولیس والے بھی ہوتے ہیں۔

ایک چھوٹے تھانیدار کو پتہ چلا تو اس نے ایک مشکل ترین فیصلہ کیا۔ملزم بااثر تھے ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہ تھا ان کو ٹریپ کرنے کے لئے اس نے اپنی بیٹی کو سامنے کر دیا۔

متاثرہ خاتون کے ذریعے اس درندے سے ASI کشمور محمد بخش برڑو نے اپنی بیٹی کی بات کرائی۔
یوں پولیس نے ہمت کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا جس نے گرفتاری کے بعد انکشاف کیا کہ اسے علاقے کے نامور سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

اس کہانی میں ہمارے معاشرے کے کتنے رنگوں کی عکاسی ہوتی ہے۔۔۔ ایک بے بس ماں جو خود بھی پامال ہوئی اور اس کی آنکھوں کے سامنے 4 سالہ لخت جگر بھی۔

معاشرہ ہے یا جنگل ۔۔۔ جب جہاں کسی کا دل چاہتا ہے بے بس خواتین کو معصوم بچیوں کو دن دیہاڑے اٹھاتا ہے روند کر کچرے کے کسی ڈھیر پر پھینک دیتا ہے۔

کیسے ظالم ہیں وہ بااثر جو ایسے درندوں کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر داد عیش بھی۔

دلدوز منظر ہے جب میڈیا کے سامنے ماں پوچھتی ہے میری بیٹی کس نے تیرا یہ حشر کر دیا۔پھول سی بچی جسے یہ ہی پتہ نہیں گینگ ریپ یا زیادتی کیا ہوتی ہے وہ اپنی شلوار ہٹا کر بتانے لگتی ہے کہ یہاں کچھ ہو گیا۔

ہم مر کیوں نہیں جاتے۔۔۔!

ایسے میں اس ASI کو کیوں سلام نہ کریں جس نے ایک بچی کےساتھ درندگی کرنے والوں کو کٹہرے میں لانے کی خاطر اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگا دی۔

محمد بخش تم اس بے حس منافقت سے اٹے معاشرے میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہو تم نے قوم کے اجتماعی گناہ کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔

    • Asi صاحب کو سلام اور اس کے
      تحفظ کا خاص خیال رکھا جا ۓ درندوں کے لمبے ہاتھ ہوتے ھیں پولیس کو انعام ملنا چا ھۓ

  • کاش پنجاب اور سارے پاکستان کی پولیس پولیس میں۔ بھی اکثریت ایسے ہی پولیس افسروں کی ہو جائے اب بھی تمامُ صوبوں اچھے پولیس والے بھی ہیںُ مگر بہت کمُ

  • اگر ان مجرموں کو جلد پھانسی نہ دی گئی تو ججز، ہیجڑے بلاول اور اس کے کنجر باپ کا گھیراو کرکے انہیں پھانسیاں دے دی جائیں

  • Salute to the ASI. Indeed there are honest and brave officers among the ranks. Another suggestion Is Pakistan should institute a policy where it requires a require a bachelors degree and above to become an SHO and above. Other lower qualifications for lower roles. It will improve our police as educated force will not crumble under pressure and many more other benefits.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >