میرے کپتان نے آج واقعی کپتان بن کر دکھایا ۔منصور علی خان

میرے کپتان نے واقعی میں کپتان بن کر دکھا دیا،منصور علی خان وزیراعظم کے معترف

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

پلانٹڈ انٹرویو بھی آج تک بہت دیکھے اور سنے لیکن آج ایک جینوئن انٹرویو سنا۔ کچھ دن پہلے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے یکے بعد دیگرے چند صحافیوں کو انٹرویو دیا۔تنقید کے نشتر چلے کہ یہ من پسند لوگ تھے۔

آج ایک ایسے اینکر کے ساتھ سوال و جواب کی نشست تھی جو عمران خان کے صف اول کے ناقدوں میں شمار ہوتا ہے
آئیے دیکھتے ہیں اس انٹرویو کا آغاز کیسے ہوا۔۔۔ منصور خان کا کہنا تھا ،ناظرین میں نے دو سال وزیر اعظم پہ کڑی تنقید کی لیکن ان کی اعلی ظرفی ہے کہ مجھے انٹرویو دینے سے انکار نہیں کیا ۔اس پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تنقید کسی معاشرے کا اثاثہ اور جمہوریت کا حسن ہے۔

یہ انٹرویو ختم کہاں پہ ہوا ۔۔۔ ناظرین آج ہم اپنے کپتان کی موجودگی میں یہ کہتے ہیں کہ میرے کپتان نے واقعی میں کپتان بن کر دکھا دیا۔ ناظرین مجھے اعتراف ہے کہ انتہائی سخت سوال پوچھے گئے۔ انٹرویو سے پہلے مجھ سے صرف موضوعات بارے پوچھا گیا تھا جبکہ سوال میں نے نہیں بتائے تھے خوشی ہے کہ میرے کپتان نے تحمل اور برداشت سے ان سوالوں کے جواب دیے ۔

بطور صحافی منصور خان نے ہر وہ سوال پوچھا جو عمران خان پر تنقید کرنے والوں کی زبان پر ہوتے ہیں ،حکومتی کارکردگی ،عثمان بزدار کی ذات ، فوج کے ساتھ تعلقات ،خارجہ امور ،عربوں سے تعلقات ، بی آر ٹی پشاور ،کروڑ نوکریاں پچاس لاکھ گھر وغیرہ۔

جرنلزم اور سیاسیات کے ادنی طالب علم کی دانست میں یہ ایک یادگار انٹرویو تھا ۔ تیکھے سوالوں کے تفصیلی جواب۔منصور خان نے ایک غیر جانبدار انٹرویو نگار کا حق ادا کر دیا اور وزیر اعظم نے سلیقے سے ہر سوال کا جواب دے کر ایک ٹریںنڈ سیٹ کر دیا۔

  • اس کو کافی حیرانی ہوئی ہو گی کہ سوال بتاۓ بغیراور پرچی کے بغیر خان نے انٹر ویو میں اس کی طبیعت صاف کر دی ہے۔ ان کو ایک آدھی ہڈی ڈال دینی چاہیے پانچ چھہ ماہ ٹھنڈ پڑی رہے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >