الوداع پاکستانیو ، تم تو بے زبان جانوروں پہ بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے

عامر عثمان عادل 

الوداع پاکستانیو ، تم نہ تحفوں کے قدردان ہو نہ انسانوں کے ، تم تو بے زبان جانوروں پہ بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے، اب مجھے دیکھ لو میں 1981 میں سری لنکا میں پیدا ہوا ابھی 4 برس کا تھا کہ تمہارے صدر جنرل ضیاء الحق کو تحفے میں دے دیا گیا
کہاں میرا قدرتی مسکن اس کی آزاد فضائیں اور کہاں اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے چڑیا گھر کی اداسی اور ویرانی

خیر میں برسوں تمہارے بچوں میں خوشیاں بانٹتا رہا ان کی تفریح کا سامان بنا اور ان کی سواری بھی میری تنہائی اور اکلاپا دیکھ کر کسی خدا ترس انسان کی درخواست پر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم خالدہ ضیاء نے میری تنہائیوں کو بانٹنے کے لئے ایک سہیلی کا تحفہ بھیج دیا میں نے تو شکر کیا،

اتنے سالوں بعد میری ویران خشک زندگی میں رنگ بھرنے کو اب میری سہیلی میرے پاس تھی ،چند برس ہم دونوں نے ایک دوسرے کے پیار میں گذار دئیے ہمارے دکھ بھی سانجھے تھے اور سکھ بھی ، ایک دن کیا ہوا کہ میری جیون ساتھی بیمار پڑ گئی انفیکشن ایسا بڑھا کہ زخم ٹھیک ہونے میں ہی نہ آئے،

سر سے اتارنے کو علاج کچھ دن تو ہوا پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا وہ بیچارگی کے عالم میں تڑپتی سسکتی ایڑھیاں رگڑتی مجھے ایک بار پھر اکیلا چھوڑ گئی کتنے دکھ کی بات ہے اس کا بے جان متعفن لاشہ کتنے روز میری آنکھوں کے سامنے پڑا پل پل میرے دل کو جلاتا رہا یہ غم گویا میری کمر پہ آخری تنکا ثابت ہوا۔

اب وہ بات کہاں کہ دل بہلے جس پر میں اندر ہی اندر ٹوٹنے لگا گھلنے لگا لیکن میرے رکھوالے میری کیفیت سے بے خبر رہے جب میرا درد بڑھتا تو میں پنجرے کی آہنی سلاخوں سے سر پٹختا رہ جاتا میرے درد کا مداوا کرنے کی بجائے مجھے زنجیریں پہنا دی گئیں۔

امریکہ سے چھٹیوں پہ آئ ثمر نے میری آنکھوں میں تیرتی اداسی کو پڑھ لیا اور اس نے میرے علاج کی کوششوں کا آغاز کر دیا
امریکی گلوکارہ چیر کو خبر ہوئ تو اس نے باقاعدہ میری رہائ کی مہم چلا دی ، پھر جانوروں کی خاطر کام کرنے والی این جی او میدان عمل میں آئ میری رہائ کے لئے آن لائن پٹیشن پر لاکھوں افراد نے دستخط کر دئیے۔

جب تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں تو اسلام آباد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا جس کا حکم تھا کہ فی الفور مجھے اس قید تنہائی کے عذاب سے رہائی دی جائے اور میرے علاوہ تمام جانوروں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کردیا جائے ، بھلا ہو امریکی گلوکارہ چیر کا جو میری محسنہ بن کر پاکستان آئ میری الوداعی تقریب میں میرے لئے گانے گائے ،

خصوصی طیارہ مجھے آپ کے دیس سے کوسوں دور کمبوڈیا لے جائے گا ، جہاں کئی ایکڑ رقبے پر محیط جنگل کی کھلی فضائیں سرسبز درخت فطرت دوست ماحول اور میری نسل کے بہت سے ہاتھی میرے منتظر ہیں ، شکر ہے جیتے جی مجھے قید تنہائی سے رہائی نصیب ہو گئی ورنہ تو میرا لاشہ ہی یہاں سے اٹھایا جاتا۔

سنو پاکستانیو
میرے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا ، کبھی اپنی بے حسی کا نقاب اتار کر سوچنا ضرور ، کیا زندہ قومیں تحفوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھا کرتی ہیں؟ اور کیا تم لوگ اس قابل ہو بھی کہ تمہیں کوئ تحفہ دیا جائے؟
الوداع اے بے مروت ناقدرے لوگو !

  • ہمارا تو وزير اعظم بھی علاج کے لئے لندن جاتا ہے اور وہيں رہتا ہے ، پھر يہ ہاتھی کيا چيز ہے
    ہمارے کُتے تو انسانوں کو کاٹ کھاتے ہيں اور دوائی نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتے ہيں پھر يہ ہاتھی تو اتنا عرصہ زندہ رہا اور ہے کوئی شکر کوئی الحمدُلّلہ۔

  • میرے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا ، کبھی اپنی بے حسی کا نقاب اتار کر سوچنا ضرور ، کیا زندہ قومیں تحفوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھا کرتی ہیں؟ اور کیا تم لوگ اس قابل ہو بھی کہ تمہیں کوئ تحفہ دیا جائے؟
    الوداع اے بے مروت ناقدرے لوگو !

    KAVUN THE ELEPHANT PLEASE DO NOT SAY THIS. THİS İS INEFFICIENCY OF THE PRESENT AND PREVIOUS GOVERNMENT NOT PEOPLE OF PAKISTAN. PEOPLE OF PAKISTAN ARE HAPPY THAT YOU ARE NOW FREE FAR AWAY FROM THE BABOO TYPE "VERY ELIGIBLE AND INEFFICIENT” OFFICERS OF THE ZOO.

  • جہاں امیر اور غریب کا قانون الگ ہو جہاں وکیل سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کر نے کے لیئے بھاری رقم کا مطالبہ کر یں اس میں ہاتھی کی دھائی کیسی؟🙏


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >